یمنی حکومت کی تمام شہریوں کی رہائی حوثیوں سے مذاکرات کی پہلی شرط

بے گناہ شہریوں کو اٹھا کر غائب کرنا ،عقوبت خانوں میں انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے،حکومت

پیر اپریل 11:40

صنعائ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) یمن میں ایرانی حمایت یافتہ دہشت گرد حوثی ملیشیا کی عقوبت خانوں میں پابند سلاسل رہنے والے شہریوں میں سے دو کو حال ہی میں رہا کیا گیا۔امریکی ٹی وی کے مطابق حوثیوں کی قید میں رہنے والے انس الصراری اور ابراہیم محی الدین نے بتایا نہیں دوران حراست انہیں انسانیت سوز مظالم کا نشانہ بنایا گیا۔ الصراری پر اتنا تشدد کیا گیا کہ اس کا آدھا جسم مفلوج ہوگیا ہے۔

(جاری ہے)

حوثی جلاد ان پر ہولناک تشدد کرتے رہے ہیں۔درایں اثناء یمنی حکومت نے عہد کیا کہ آئندہ حوثیوں کے ساتھ بالواسطہ یا براہ راست مذاکرات کے لیے تمام سول شہریوں کی رہائی پیشگی شرط ہوگی۔حکومت کا کہنا تھا کہ بے گناہ شہریوں کو اٹھا کر غائب کرنا اور انہیں عقوبت خانوں میں انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے۔ حوثیوں کو اقوام متحدہ کے ذریعے آئندہ کسی بھی قسم کے مذاکرات سے قبل بے گناہ شہریوں کو جیلوں سے باعزت طورپر چھوڑنا ہوگا۔