وزارت تجارت کا مقامی صنعت کے تحفظ کیلئے اقدامات اٹھانے کا فیصلہ

غیرملکی مصنوعات کے مقابلے میں مقامی صنعت کو خاص مدت تک مراعات دی جائینگی مصنوعات کی پیداوار کے مراحل کیساتھ ٹیرف میں اضافے کے طریقہ کار کو برقرار رکھاجائے گا، ٹیرف میں تیزی سے اضافے کی حوصلہ شکنی کی جائے گی،ذرائع

پیر اپریل 20:17

وزارت تجارت کا  مقامی صنعت کے تحفظ کیلئے اقدامات اٹھانے کا فیصلہ
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) وزارت تجارت نے ملکی مصنوعات میں مسابقت نہ ہونے پر مقامی صنعت کے تحفظ کیلئے اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کرلیا،غیرملکی مصنوعات کے مقابلے میں مقامی صنعت کو خاص مدت تک مراعات دی جائینگی، مقررہ مدت کے بعد مرحلہ وار یہ مراعات واپس لے لی جائینگی، مصنوعات کی پیداوار کے مراحل کے ساتھ ساتھ ان کے ٹیرف میں اضافے کے طریقہ کار کو برقرار رکھاجائے گا اور ٹیرف میں تیزی سے اضافے کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق وزارت تجارت کی جانب سے فیصلہ کیاگیاہے کہ مصنوعات کی پیداوار کے مراحل کے ساتھ ساتھ ان کے ٹیرف میں اضافے کے طریقہ کار کو برقرار رکھاجائے گا اور ٹیرف میں تیزی سے اضافے کی حوصلہ شکنی کی جائے گی اور درآمدی صنعت کے مقابلے میں مقامی صنعت میں مسابقت پیدا کرنے کیلیے مقامی صنعت کا حجم بڑھایاجائے گاذرائع نے مزید بتایاکہ گزشتہ چند برس کے دوران دنیا کی بیس تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشتوں میں امپورٹ ٹیرف کم کیا گیا ہے جبکہ پاکستان میں اس کے برعکس پالیسی اپنائی گئی ہے اور امپورٹ ٹیرف میں 11 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے جس سے برآمدات پر منفی اثرات مرتب ہوئی2001 میں ٹیرف کو 18.91فیصد سے کم کرکے 8.92 فیصد کیاگیا جس سے برآمدا ت میں 170فیصد کا اضافہ ہواذرائع نے بتایاکہ اس عرصے کے دوران برآمدات 9.2 ار ب ڈالر سے بڑھ کر 24.08 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔

(جاری ہے)

ٹیرف لبرالائزیشن کو واپس کرنے سے برآمدات میں کمی ہوئی اور اس فیصلے سے برآمدات میں 18 فیصد کی کمی ہوئی اور برآمدات 20.4 ارب تک آگئیں۔ ذرائع کے مطابق 2010-16 ٹیرف ریونیو میں 169 فیصد کا اضافہ ہوا ہے جبکہ درآمدات میں صرف 17 فیصد کا اضافہ ہوا۔ ذرائع کے مطابق 2013 کے دوران ٹیرف لائنز105 تھیں جو 2017 میں بڑھ کر 1500 تک پہنچ گئیں۔ درامدی ریونیو میں ریگولیٹری ڈیوٹیز کا حصہ 1.05 فیصد سے بڑھ کر 8 فیصد تک پہنچ گیاہے۔ذرائع نے مزید بتایاکہ ملکی برآمدات میں کمی کی ایک بڑی وجہ ٹیرف اور ٹیکسز ہیں جن کی وجہ سے صنعتی پیداوار عالمی دنیا میں غیر مسابقتی ہوتی جار ہی ہے۔

متعلقہ عنوان :