انسانی زندگیوں سے کھلواڑ کرنے والوں کے خلاف آخری حد تک جائیں گے، اسسٹنٹ ڈائریکٹر فوڈ اتھارٹی ہزارہ ڈویژن

منگل اپریل 20:05

ایبٹ آباد۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) فوڈ اتھارٹی ہزارہ ڈویژن کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر عدیل نعمان نے کہا ہے کہ انسانی زندگیوں سے کھلواڑ کرنے والوں کے خلاف آخری حد تک جائیں گے، محکمہ ہیلتھ اورڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر کسی دوکاندار پر جرمانہ یا ہیلتھ سرٹیفیکیٹ نہیں دے سکتے، دوکان سیز، سیل اور جیل بھیجنے کا اختیار صرف فوڈ اتھارٹی کو حاصل ہے۔

منگل کو ہول سیلز ڈیلرز اور ڈسٹری بیوشن یونین کے عہدیداروں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے سیلز آفیسرز نے فوڈ ایجوکیشن میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے، جنرل سٹور، ہوٹل،، دودھ فروش، قصاب اور بیکرز کے خلاف کارروائی کرنے کا اختیار فوڈ اتھارٹی رکھتی ہے، دوکانداروں پر جر مانے کے علاوہ سیز، سیل اور جیل بھی بھیجنے کا بھی اختیار حاصل ہے، کم از کم جرمانہ25000 ہزار اور اس کے بعد کوئی حد نہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ہم A کلاس بیکرز،جنر ل سٹور اور اے کلاس ہوٹلوں کو پہلے مرحلے پر چیک کریں گے جس کے بعد بی کلاس اور عام کاروباری مراکز کی باری آئے گی۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی دارالحکومت پشاور میں دوکانداروں کیلئے تربیتی مرکز قائم کرکے انہیں صفائی اور مصنوعات افادیت سے آگاہی مہیا کی جا رہی ہے اور اگلے مرحلے پر یہ سلسلہ ایبٹ آباد اور دیگر ڈویژنل مراکز تک بھی بڑھایا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ آئندہ دوکانوں کے لاسنس فوڈ اتھارٹی جاری کرے گی۔ جبکہ دوکانوں میں لگائے جانے والے ریک زمین سے کم از کم 6انچ بلندی پر نصب کرنا اور دیواروں سے دور ان کی تنصیب دوکانداروں کی ذمہ داری ہوگی۔ علاوہ ازیاں اشیائے کوردو نوش پر ایکسپائری تاریخ کا اندراج بھی لازم ہوگا۔ انہوں نے کھلے گھی سلانٹی پاپڑ اور دیگر اشیاء کی فروخت پر پابندی کا ذکر کرتے ہوئے خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان بھی کیا۔

انہوں نے تمام نجی سکولوں کو متنبہ کیا کہ وہ سکول کینٹینوں پر کوئی بھی شے فروخت نہ کریں اور سلانٹی پاپڑ وغیرہ کا فوری خاتمہ ممکن بنائیں۔ہول سیل ڈسٹری بیوشن صدر عبدالواحد میر نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے دوکانداروں کی طرف سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا اور اس امر پر خوشی کا اظہار کیا کہ لائسنس اور معیار جانچنے کیلئے ایک ادارہ قائم کرکے صوبائی حکومت نے ایک مثبت اور دیرینہ ضرورت پوری کی ہے جس کا ہر سطح پر خیر مقدم کیا جائے گا۔

متعلقہ عنوان :