حکومت نے سی پیک کے عظیم الشان منصوبہ کے تناظر میں پیدا ہونے والے روز گار کے لاکھوں نئے مواقع سے بھر پور فائدہ اٹھانے کیلئے فوری طور پر ایک لاکھ نوجوانوں کو مختلف ٹریڈز کی مہارت اور جدید تربیت فراہم کرنے کا اعلان کر دیا

بدھ اپریل 15:01

حکومت نے سی پیک کے عظیم الشان منصوبہ کے تناظر میں پیدا ہونے والے روز ..
فیصل آباد۔25 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) حکومت نے پاکستان چیین اقتصادی راہداری کے عظیم الشان منصوبہ کے تناظر میں پیدا ہونے والے روز گار کے لاکھوں نئے مواقع سے بھر پور فائدہ اٹھانے کیلئے فوری طور پر ایک لاکھ نوجوانوں کو مختلف ٹریڈز کی مہارت اور جدید تربیت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے اور نیوٹیک کو خصوصی ذمہ داری بھی تفویض کی ہے تاکہ آنے والے وقتوں میں ماہر افرادی قوت کی کمی کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ بے روز گاری کے خاتمہ اور غربت میں کمی کے عمل کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔

نیوٹیک کے ذرائع نے بتایاکہ نئی مردم شماری کے اندازوں کے مطابق ملک کی 22 کروڑ کی کل آبادی میں12سے 13کروڑ نوجوان شامل ہیںجن کیلئے سرکاری محکموں میں نوکریوں کی تعداد بہت کم ہے اس لئے ان کو جدید خطوط پر ٹیکنیکل اور ووکیشنل تربیت دینے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر صرف 25 ہزار نوجوانوں کو تربیت دی گئی ہے جبکہ پچھلے سال ان کی تعداد بڑھا کر 50 ہزار کر دی گئی تھی تاہم اس سال 1 لاکھ نوجوانوں کو مارکیٹ کی ضروریات اور عالمی معیار کے مطابق تربیت دی جائیگی تا کہ نہ صرف وہ ملکی ضروریات کو پورا کر سکیں بلکہ عالمی منڈیوں میں بھی اپنا حصہ لے سکیں۔

انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے اس لئے اگر ہم ان کو پوری طرح استعمال کریں تو ہمارا شمار دنیا کی دس بڑی معیشتوں میں ہو سکتا ہے ۔ انہوں نے سنگاپور، ملائیشیا اور ترکی جیسے ملکوں کا ذکر کیا اور کہا کہ پاکستان اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود صرف 22 ارب ڈالر سالانہ کا زرمبادلہ کما رہا ہے جبکہ سنگا پور صر ف ہوا، پانی اور سورج کے ذریعے 57 ارب ڈالر کا زر مبادلہ کما رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین والوں کے مطابق ان کی ترقی کا راز ان کی ٹیکنیکل تربیت میں ہے اور اگر ہم بھی اپنے 60 فیصد نوجوانوں کو ٹیکنیکل ہنر سکھا دیں تو یہ افرادی قوت پاکستان کیلئے تیل سے بھی بڑا سرمایہ ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال 1 لاکھ نوجوانوں کو تربیت دینے پر اربوں روپے خرچ ہونگے تاہم حکومت اس کیلئے پوری طرح تیار ہے کیونکہ یہ صرف ایک لاکھ نوجوانوں کا نہیں بلکہ 1 لاکھ خاندانوں کے مستقبل کا معاملہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نوجوانوں کی تربیت کیلئے صنعتکاروں کی مشاورت سے نئے ٹریڈ زکا انتخاب کیا جائیگا جبکہ پہلے سے جاری ہر ٹریڈ کے نصاب پر بھی نظر ثانی کی جا رہی ہے تاکہ اسے جدید تقاضوں کے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔