صدر ٹرمپ کو شام سے امریکی فوج کے انخلاء پر پشیمانی ہو گی، امریکی وزیر دفاع

جمعہ اپریل 12:47

واشنگٹن ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے کہا ہے کہ امریکا شام سے اپنی فورسز کو واپس بلانے کے اٴْس فیصلے پر پیشیمان ہو سکتا ہے جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ عمل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق جمعرات کے روز کانگریس کے اجلاس کے دوران جیمزمیٹس نے انکشاف کیا کہ دو ہفتہ قبل فرانس نے عسکری کٴْمک شام بھیجی تھی۔

انہوں نے کہا کہ امریکی فوج کی اولین ترجیح ایک تباہ کن فورس بنانا ہے جس کے بغیر کل آنے والے تنازعات میں کامیابی کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔ میٹس نے اپنے خطاب میں بھرپور جوہری مزاحمت برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جو بھی امریکا کو چیلنج کرے گا اسے بدترین وقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

(جاری ہے)

امریکی وزیر دفاع کے مطابق امریکی فوج کو مشرق وسطی کی صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے اضافی مالی سپورٹ کی ضرورت ہے۔

انہوں نے اس جانب اشارہ کیا کہ نئے میزانیے میں امریکی فوجیوں کی تنخواہوں میں اضافہ یقینی بنایا گیا ہے۔جیمزمیٹس نے بتایا کہ ان کی وزارت اخراجات پر کڑی نظر رکھنے اور اس حوالے سے پوچھ گچھ کے کلچر کو فروغ دے رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزارت دفاع اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ آڈٹ رپورٹ پیش کرے گی۔انہوں نے کہا کہ وزارت دفاع فوج میں جنسی جرائم کا بھرپور طریقے سے انسداد کرے گی اور فوج اہلکاروں کو جنسی ہراسیت کا شکار ہر گز نہیں ہونے دے گی۔