مجھ سمیت کوئی بھی سیاستدان خواجہ آصف کی نااہلی سے خوش نہیں ہیں، بہتر ہوتا یہ معاملہ پارلیمنٹ حل کرتی

نواز شریف سے بار بارآئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے خاتمے کے لئے کہا مگر انہوں نے تعاون نہیں کیا قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ کی پارلیمنٹ ہائوس میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت

جمعہ اپریل 13:10

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ مجھ سمیت کوئی بھی سیاستدان خواجہ آصف کی نااہلی سے خوش نہیں ہیں۔ بہتر ہوتا یہ معاملہ پارلیمنٹ حل کرتی۔ جمعہ کو پارلیمنٹ ہائوس میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی بھی پارٹی سے ورکر نکل جائے تو ضرور افسوس ہوتا ہے۔

پارلیمنٹ کو اپنے فیصلے خود کرنے چاہئیں۔ آرٹیکل 62 کے تحت جسے نااہل کیا جاتا ہے اس میں جھوٹ کا عنصر شامل ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

خواجہ آصف کی نااہلی سے خوش نہیں ہوں۔ ہم نے نواز شریف سے بار بار آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے خاتمے کے لئے کہا مگر انہوں نے اس سلسلے میں تعاون نہیں کیا۔ ججز کو بھی چاہئے کہ وہ سیاسی معاملات کو سیاسی ہی رہنے دیں۔ بہتر ہوتا کہ یہ معاملہ پارلیمنٹ کو بھیج دیا جاتا۔ خواجہ آصف کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے وہ قانونی نقطہ نظر سے ہوا ہے تاہم یہ پارلیمانی نظام کے تحت ٹھیک نہیں ہے، ساری گیم یا سیاست پارلیمنٹ میں ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو چار ماہ سے زیادہ کا بجٹ نہیں دینا چاہئے۔ ایک سال کا بجٹ پیش کر کے موجودہ حکومت نئی روایت ڈال رہی ہے۔