افغانستان میں بحالی امنکیلئے پاکستان کا کردار اہم ہے،نیٹو وزرائے خارجہ

پاکستان نیٹو کے لیے رسد فراہمی کا اہم سہولت کار ہے،پاکستان طالبان کی سوچ بدلنے میں حوصلہ افزائی کرے،پاکستان دہشت گرد ٹھکانوں کو بند کرے، دہشت گردوں کی مالی معاونت اور سرحد پار حملوں کو روکے،پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک سے مل کر کام کرے، مشترکہ اعلامیہ

ہفتہ اپریل 22:37

برسلز(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل2018ء) نیٹو ممالک کے وزراء خارجہ نے مشترکہ طور پر کہا ہے کہ ا فغانستان میں بحالی امن کے لئے پاکستان کا کردار اہم ہے،،پاکستان نیٹو مشن کے لیے ہتھیاروں کی رسد کی فراہمی کا اہم سہولت کار ہے،،پاکستان طالبان کی سوچ بدلنے میں حوصلہ افزائی کر سکتا ہے،،پاکستان دہشت گرد ٹھکانوں کو بند کرے، دہشت گردوں کی مالی معاونت اور سرحد پار حملوں کو روکے،،پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک سے مل کر کام کرے۔

امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق نیٹو ممالک کے وزرائے خارجہ نے گزشتہ روز افغانستان سے متعلق ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نیٹو مشن کے لیے ہتھیاروں کی رسد کی فراہمی کا اہم سہولت کار ہے اور یہ کہ امن عمل میں پاکستان اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

(جاری ہے)

وزرائے خارجہ نے کہا ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ امن عمل میں پاکستان کا کردار اہم ہے جس میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ طالبان کی سوچ بدلنے میں حوصلہ افزائی کر سکتا ہے۔

اٴْنھوں نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ افغان تنازعے کے سیاسی حل کی بیان کردہ حمایت پر عمل درآمد کرے دہشت گرد ٹھکانوں کو بند کرے اور دہشت گردوں کی مالی معاونت اور سرحد پار حملوں کو روکنے کے حوالے سے کام کرے، جس سلسلے میں اٴْسے اپنے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔اس ضمن میں بیان میں ایران اور روس پر بھی زور دیا گیا ہے کہ وہ افغان قیادت اور افغان نگرانی والے امن عمل کی مکمل حمایت کرکے علاقائی استحکام میں مدد دی جائے۔برسلز میں ہونے والے نیٹو وزرائے خارجہ کے اجلاس میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بھی شرکت کی۔ امریکی سینیٹ سے توثیق اور جمعرات کو عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ اٴْن کی جانب سے پہلے اجلاس میں شرکت تھی۔