صنتعکاروں ، تاجروں اور تمام طبقات نے حالیہ بجٹ کودوست بجٹ قرار دے دیا

ٹیکسوں میں کمی خوش آئند ہے جس سے کاروبار میں مزید بہتری آئے گی، ٹیکس میں چھوٹ کے حکومتی فیصلے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ،صنعتکار زرعی شعبے کیلئے ٹیکس استثنیٰ اور سبسڈی سمیت کئی مراعات کے اعلان کے بہتر نتائج برآمد ہونگے ، صدر ایف ٹی سی سی آئی غنضفر بلور

اتوار اپریل 19:20

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اپریل2018ء) آئندہ مالی سال کے بجٹ کو صنتعکاروں ، تاجروں اور تمام طبقات نے دوست بجٹ قرار دے دیا ہے خصوصا تاجروں اور بڑے بڑے صنتعکا روں نے اس بجٹ کودوست بجٹ قرار دیتے ہوے کہا ہے کہ مختلف مدوںمیںٹیکسوں میں کمی خوش آئند ہے اور اس سے کاروبار میں مزید بہتری آئے گی لیکن سیلز ٹیکس ریفنڈز کی عدم ادایئگی مایوس کن ہے اس سے تاجروں اور صنعتکاروں کو نقصان اور حکومت کو فائدہ ہوگا مگر چونکہ حکومت نے ہمیں ٹیکس میں چھوٹ دی ہیں اسلیے ہم حکومت کے اس فیصلے کی بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہے کیونکہ حکومت نے پہلی بار کاوروبار دوست بجٹ بنایا ہے آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بڑے بزنس مینوں اور صنعت کاروں نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ برآمد کنندگان کو بجٹ میں نظر انداز کیا گیا ہے بجٹ میں مثبت اقدامات تجاویز کیے گئے ہیں آنے والی حکومت کو چاہیے کہ وہ ان اقدامات اور تجاویز کو آگے لے کر چلے تاکہ ملک کی معیشت مضبوط ہوسکے ایف ٹی سی سی آئی کے صدر غنضفر بلور نے بجٹ پر اپنے رائے دیتے ہوئے کہا کہ برآمد کنندگان کو نظر انداز کرنا کسی صورت ٹھیک نہیں فیڈریشن کی کئی تجاویز کو اہمیت نہیں دیں گی لیکن زرعی شعبے کیلئے ٹیکس استثنیٰ اور سبسڈی سمیت کئی مراعات کا اعلان کیا گیا ہے جس کے بہتر نتائج برآمد ہونگے اس بجٹ پر جب اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شیخ عامر وحید سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اپنے رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دیکھنے میں تو یہ بجٹ متوازن نظر آتا ہے کیونکہ حکومت نے ٹیکس کی مد میں بہتر ریلف فراہم کیا ہے خصوصاً حکومت نے زرعی شعبے ،لائیو سٹاک اور پولٹری کے شعبے کو ٹیکسوں میں ریلف فراہم کیا ہے حکومت نے انکم ٹیکس کے لیے چھوٹ کی مد کو4لاکھ سے بڑھا کر 12لاکھ کردیا گیا ہے جبکہ بجٹ میں رئیل سٹیٹ شعبے کو کوئی خاص ریلف فراہم نہیں کیا گیا مگر دوسری طرف حکومت نے کمپیوٹر پارٹس پر سلیز ٹیکس ختم کرکے اچھا فیصلہ کیا ہے دوسری طرف اسلام آباد تاجر یونین کے صدر اجمل بلوچ نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ تاجر دوست کسان دوست بجٹ ہے چونکہ حکومت چند ماہ کی مہمان رہ گئی ہے اس یے اچھا بجٹ پیش کیا گیا ہے مگر ہمارا مطالبہ ہے کہ آئندہ آنے والی حکومت بھی اس بجٹ کو آگے لے کر چلے ،آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر چوہدری کاشف نے اپنے رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ تاجر دوست ضرور ہے مگر اس میں نچلے طبقے کو ریلیف نہیں دیا گیا بڑے بڑے بزنس مین اس بجٹ سے تو بہت خوب مستفید ہونگے لیکن دیہاڑی دار طبقہ پر اس بجٹ کا اثر نہیں پڑے گا جبکہ دوسری طرف دیہاڑی دار طبقے اور ریڑی بان سے جب اس بجٹ کے بارے میں رائے لی گئی تو اس بجٹ کا ہمیں تو کوئی فائدہ نہیں نہ تو ہم لوگ بڑے بزنس مین ہے جن کو ٹیکسوں میں چھوٹ دی گئی ہے اور نہ ہی ہم کسان ہے جن کی سبسڈی ختم کردی گئی ہے ہم نے روزانہ 600 سے 800روپے کمانے ہیں اور اسی سے اپنے گھروالوں کا پیٹ پالنا ہے ہم نے دالیں ،چینی ،گھی ،آئل اور آٹا خریدنا ہے لیکن ہمیں اس سے ریلیف نہیں ملے گا تو پھر کیا فائدہ اس بجٹ کا جس میں بڑے بڑے لوگوں کو ریلیف دیا گیا ہی (صدام)