شام میں امریکی فوجی اڈے پر فرانسیسی ایلیٹ فورس کی آمد ورفت

اتوار اپریل 20:10

دمشق(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اپریل2018ء) شام میں امریکی فوجی اڈے پر فرانسیسی ایلیٹ فورس کی آمد ورفت کاانکشاف ہوا ہے ۔ترک خبر رساں اداریاناطولیہ نیمقامی ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ فرانسیسی ایلیٹ فورس کی یونٹوں کے اہلکار شام کی الحسکہ گورنری میں رمیلان کے مقام پرقائم امریکی فوجی اڈے پر پہنچے ہیں۔ خیال رہے کہ یہ علاقہ کرد جنگجوں کے زیرانتظام ہے۔

فرانسیسی فوج کے ایک ذریعے نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ امریکی فوج کی عدم موجودگی میں فرانسیسی فوج حرکت میں آئے گی۔ ذریعے کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی اڈیکو شام اور عراق میں آمد ورفت کے موقع پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ رمیلان کے فوجی اڈے پر آمد کا مقصد وہاں پر قیام کرنا نہیں۔تاہم بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ فرانسیسی ایلیٹ فورس کے اہلکار اپنی بکتر بند گاڑیوں پر امریکی فوجیوں اور کرد جنگجوں کے ہمراہ منبج، الرقہ اور دیر الزور میں مشترکہ گشت بھی کریں گے۔

(جاری ہے)

اناطولیہ کو اپنے ذریعے سے اطلاع ملی ہے کہ کرد جنگجوں نے منج شہر میں فرانسیسی فوج کے ساتھ ایک مشترکہ اجلاس میں شرکت کی۔خیال رہے کہ شمالی شام کے پانچ مقامات پر فرانسیسی فوج کے 70 اہلکار موجود ہیں۔ یہ فوجی داعش کے خلاف سرگرم عالمی عسکری اتحاد کے مشن کا حصہ ہیں۔ انہیں تلہ المشتی النور، عین العرب،(کوبانی)، صرین، عین عیسی اور خراب العاشق کے مقامات پر تعینات کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ 29 مارچ کو شام میں ڈیموکریٹک فورس پر مشتمل کرد جنگجوں کے ایک وفد نے فرانسیسی صدر عمانویل میکروں سے ملاقات کی تھی۔فرانسیسی ایوان صدر کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ صدر میکروں کرد فورسز اور ترکی کے درمیان عالمی برادری کے تعاون سے مذاکرات کے خواہاں ہیں۔