اسرائیلی حکومت کاامریکا سے اپنے جاسوس جوناتھن پولارڈ کو مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی سفارتخانے کے افتتاح کی تقریب میں شرکت کی اجازت دینے کا مطالبہ

پیر اپریل 15:34

مقبوضہ بیت المقدس ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) اسرائیلی حکومت نے امریکا میں اپنے لئے جاسوسی کے جرم میں30 سال قید کی سزا بھگتنے والے جاسوس جوناتھن پولارڈ کو مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی سفارتخانے کے افتتاح کی تقریب میں شرکت کی اجازت دینے کا مطالبہ کر دیا۔ ٹرانسپورٹ اور خفیہ اطلاعات کے اسرائیلی وزیر یزرائیل کاٹز نے اسرائیلی فوجی ریڈیو کو انٹرویو میں کہا کہ انہیں امید ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے سفارتخانے کو عالمی برادری کی مخالفت کے باوجود تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کے موقع پر اسرائیل کو ایک اور تحفہ بھی دیں گے۔

یہ تحفہ امریکی جیل میں تیس سال قید کی سزا کاٹنے والے اسرائیلی جاسوس جوناتھن پولارڈ کو اسرائیل کا سفر کرنے کی اجازت کی صورت میں ہو گا تاکہ وہ مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی سفارتخانے کے افتتاح کے جشن میں شرکت کر سکے۔

(جاری ہے)

امریکی صدر اسرائیل کے قیام کی 70 ویں سالگرہ کے موقع پر 14 مئی کو مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی سفارتخانے کا افتتاح کریں گے۔جوناتھن پولارڈ 30 سال قید کی سزا بھگتنے کے بعد اس وقت پانچ سال کے پروبیشن پیریڈ پر رہا ہے تاہم اس کے امریکا سے باہر سفر کرنے پر پابندی عائد ہے۔اس کو 1985ء میں امریکی بحریہ کی حساس دستاویزات اسرائیلی حکام کے حوالے کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا۔

متعلقہ عنوان :