یاسین ملک کے ساتھ نازیبا رویہ پولیس کی ناناشاہی اور غنڈہ گردی ہے ، حریت قائدین

بھارتی فورسز تحریک آزادی کو دبانے کی کوشش میں مرکز کامیاب نہیں ہوں گی ، بیان

پیر اپریل 15:40

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) حریت قائدین سید علی گیلانی اور میرواعظ عمر فاروق نے ریاستی پولیس کی جانب سے سینئر مزاحمتی راہنما یاسین ملک پر جان لیوا حملے ان کے ساتھ غیر شائستہ زبان کے استعمال اور بعدازاں ان کو گرفتار کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس طرح کی حرکت کو پولیس کی نانا شاہی اور غنڈہ گردی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک عوامی ساکھ اور شناخت کے حامل راہنما کے ساتھ ریاستی پولیس کا غنڈہ گردی اور آمرانہ طریقوں سے عبارت رویہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ ایک پولیس سٹیٹ ہے جہاں نہ صرف پولیس کا راج نافذ ہے بلکہ کسی کا جان و مال بھی محفوظ نہیں ہے اپنے مشترکہ بیان میں انہوں نے کہا کہ جب ایک عوامی راہنما کے ساتھ اس طرح کا سلوک روا رکھا جا سکتا ہے اور خود قانون کے محافظ لوگ ہی غنڈہ گردی پر اتر آئے تو ایک عام آدمی کے ساتھ پولیس کا کیا رویہ ہو سکتا ہے ۔

(جاری ہے)

قائدین نے کہا کہ انسانی حقوق کی بدترین پامالی ہے قائدین نے کہا کہ بھارتی فورسز طاقت کے بل بوتے پر کشمیریوں کو ان کے حق خودارادیت کی جدوجہد سے پیچھے ہٹانا چاہتی ہے تاہم کشمیری اپنی مبنی برحق جدوجہد سے کبھی پیھچے نہیں ہٹیں گے بلکہ اپنے شہدئا کی قربانیوں کی پیروی کرتے ہوئے آزادی کے مشن کو آگے بڑھائیں گے ۔ ۔