تعز میں حوثی دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل عام کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے

620 بچوں اور 371 عورتوں سمیت 3021 شہری قتل کیے جا چکے ہیں، مرکز معلومات وبحالی برائے انسانی حقوق

بدھ مئی 12:32

صنعائ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) یمن میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم نے ایران نواز حوثی باغیوں کے جرائم کی ایک نئی فہرست جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ تعز شہر میں نہتے شہریوں کے قتل عام اور ناکہ بندی کے تمام سابقہ ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔عرب ٹی وی کے مطابق مرکز معلومات وبحالی برائے انسانی حقوق کی طرف سے جاری کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ یمن میں بغاوت شروع ہونے کے بعد تعز میں باغیوں کے ہاتھوں 620 بچوں اور 371 عورتوں سمیت 3021 شہری قتل کیے جا چکے ہیں۔

یہ اعداد وشمار 21مارچ 2015ء سے 31 مارچ 2018ء کے درمیان کے عرصے پر مشتمل ہیں۔ اس دوران باغیوں کے حملوں میں صرف تعز میں 15 ہزار 956 شہری زخمی ہوئے۔ ان میں 1655 بچے اور 2449 خواتین شامل ہیں۔انسانی حقوق گروپ کی رپورٹ کے مطابق یمن کے دیگر شہروں کی نسبت تعز حوثی باغیوں کی دہشت گردی کا سب سے زیادہ شکار ہوا ہے۔

(جاری ہے)

مسلسل تین سال سے شہر حوثیوں کی ظالمانہ ناکہ بندی کا شکار ہے۔

حتیٰ کہ شہر میں متاثرین کے لیے آنے والی امداد، خوراک اور ادویات تک لوٹ لی جاتی ہیں۔حوثیوں کی طرف سے شہر میں ہزاروں کی تعداد میں بارودی سرنگیں بچھائی گئی ہیں، جس کے نتیجے میں 714 شہری جن میں 32 بچے اور 14 خواتین شامل ہیں جاں بحق اور 38 بچوں اور 17 خواتین سمیت 1132 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔رپورٹ کے مطابق حوثی شدت پسند گروپ کی طرف سے تعز کا طویل ترین محاصرہ جاری ہے۔

انسانی حقوق کے باب میں تعز میں حقوق انسانی کی پامالیوں کے نئے ریکارڈ قائم کیئے گئے ہیں۔سنہ 2018ء تک تعز کے محاصرے کو 1135 دن گذر چکے ہیں۔ کسی ایک شہر کی مسلسل ناکہ بندی کا یک نیا ریکارڈ ہے۔ نہ صرف شہر میں قتل عام اور محاصرہ جاری ہے بلکہ شہروں کا جبری اغواء اور ان کی گمشدگی کے واقعات میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ 197 شہریوں کو اغواء، 167 کی جبری گم شدگی، 792 افراد کی ظالمانہ گرفتاری اور 87 کو دوران حراست اذیتیں دے کر انہیں معذور کیے جانے کے واقعات بھی سامنے آ چکے ہیں۔ حوثیوں کے مظالم سے تنگ 2861 خاندان شہر چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔