سپریم کورٹ ، لاہور کی ضلعی عدالت کے سات سول ججز کے خلاف تحقیقات کی ہدایت

لاہور ہائیکورٹ کو تحقیقات کر کے ذمہ دار ججز کے خلاف کاروائی کا حکم

جمعرات مئی 23:16

․اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) سپریم کورٹ نے لاہور کی ضلعی عدالت کے سات سول ججز کے خلاف تحقیقات کی ہدایت کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کو تحقیقات کر کے ذمہ دار ججز کے خلاف کاروائی کا حکم دیدیا ہے، جمعرات کے روز سپریم کورٹ میں سول ججز لاہور کی جانب سے سرکاری خزانے سے لاکھوں روپے نکلوانے سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی دوران سماعت چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ لاہورہائیکورٹ کے چیف جسٹس کو معاملہ بھجوا رہے ہیں، اگر ججز نے رقم خورد برد کی ہے تو ہائیکورٹ تحیققات کرے گی، دوران سماعت چیف جسٹس نے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ میاں صاحب اتنی بڑی رقم کیسے سرکاری خزانے سے نکل گئی وکیل نے کہا کہ جناب اپنا گھر ٹھیک کرنے کیلئے یہ فٹ کیس ہے، 2004 سے 2007 تک سات ججز انچارج تھے درخواست گزار کے وکیل کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے درخواستگراز نبیلہ سلیم کو سرکاری خزانے سے 1 کڑوڑ چالیس لاکھ ادائیگی کا حکم دے دیا ہے، درخواستگزار نے سیکورٹی کی مد میں 1 کڑوڑ 40 لاکھ جمع کرواے تھے، فیصلہ حق میں آنے پر بتا یا گیا خزانے سے 1 کڑوڑ 30 لاکھ غائب ہیں، سیشن جج لاہورنے انکوائیر ی میں سات ججز کے خلاف تحقیقات کی سفارش کی تھی