سپریم کورٹ کا شکر پڑیاں کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر روکنے سے متعلق حکم

برقرار،سماعت 2 ہفتوںکیلئے ملتوی سی ڈی اے ثابت کرے کہ اسٹیڈیم نیشنل پارک کا حصہ ہے یا نہیں ،ہم کھیلوں کو سپورٹ کرتے ہیں،کھیل صحتمندانہ سرگرمی ہے، چیف جسٹس کے ریما کس شکرپڑیاں اسٹیڈیم کی زمین اگرنیشنل پارک کا حصہ ثابت ہوئی تو واپس کردیں گے، نجم سیٹھی

جمعہ مئی 18:06

سپریم کورٹ کا شکر پڑیاں کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر روکنے سے متعلق حکم
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) سپریم کورٹ نے شکر پڑیاں میں کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر روکنے سے متعلق حکم برقرار ر کھتے ہوئے کہا ہے کہ سی ڈی اے ثابت کرے کہ اسٹیڈیم نیشنل پارک کا حصہ ہے یا نہیں تجاویز طلب لیں ، چیف جسٹس نے ریما کس دیئے کہ ہم کھیلوں کو سپورٹ کرتے ہیں،،کھیل صحتمندانہ سرگرمی ہے، کیس کی سماعت 2 ہفتوں تک کے لیے ملتوی کردی جبکہ نجم سیٹھی نے کہا کہ شکرپڑیاں اسٹیڈیم کی زمین اگرنیشنل پارک کا حصہ ثابت ہوئی تو واپس کردیں گے۔

جمعہ کو چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے اسلام آباد کے علاقے شکر پڑیاں میں کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر کے معاملے پر سماعت کی۔۔سماعت کے دوران چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی پیش ہوئے اور عدالت عظمی کو آگاہ کیا کہ اسٹیڈیم کی تعمیر کا منصوبہ 2008 میں شروع ہوا تھا اور جب میں چیئرمین پی سی بی بنا تو کہا گیا کہ اس سائٹ پر اسٹیڈیم تعمیر نہیں ہونا چاہیے۔

(جاری ہے)

نجم سیٹھی نے کہا کہ سی ڈی اے کی ذمے داری تھی کہ وہ ہمیں نیشنل پارک میں جگہ ہی نہ دیتے۔ انہوں نے کہا اگر اسلام آباد اسٹیڈیم نیشنل پارک کا حصہ ثابت ہوا تو پی سی بی واپس کردے گی۔۔عدالت عظمی نے کہا کہ سی ڈی اے ثابت کرے کہ اسٹیڈیم نیشنل پارک کا حصہ ہے یا نہیں ۔نجم سیٹھ نے کہا کہ ہم نیشنل پارک میں کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر میں دلچسپی نہیں رکھتے، لیکن ہمیں اسلام آباد میں کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر میں گہری دلچسپی ہے ۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم کھیلوں کو سپورٹ کرتے ہیں،،کھیل صحتمندانہ سرگرمی ہے، ہم آپ کو اسلام آباد میں کرکٹ اسٹیڈیم کے لیے جگہ لینے میں مدد کریں گے۔جسٹس ثاقب نثار نے مزید کہا کہ نیشنل پارک میں متاثرہ سائٹ کو اس کی اصل شکل میں بحال کرائیں گے۔جس پر نجم سیٹھی نے کہا کہ پی سی بی ماحول دوستی کے لیے کام کرنے کو تیار ہے، ہم عدالت اور ماحولیاتی ایجنسی کے ساتھ ہیں، کہیں اور جگہ زمین مل گئی تو 3، 4 سال میں اسٹیڈیم بن جائے گا ۔

چیف جسٹس نے اس موقع پر ریمارکس دیئے کہ اگر آپ نے کام کرنا ہے تو ملک میں آرٹ اور کلچر کو فروغ دیں، لیکن یہ نہ ہو کہ آرٹ و کلچر کے نام پر مچھلی اور پکوانوں کی دکانیں بنا کر ماحول خراب کرتے رہیں۔قذافی اسٹیڈیم لاہور کے گرد اتنی دکانیں بن گئی ہیں کہ ان کا دھواں بھی اسٹیڈیم میں آتا ہے، لیکن پی سی بی کے کچھ ملازمین کی شاید وہاں سے روزی روٹی لگی ہے۔۔سماعت کے بعد عدالت عظمی نے اسٹیڈیم کی تعمیر روکنے سے متعلق حکم برقرار رکھا اور تجاویز طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 2 ہفتوں تک کے لیے ملتوی کردی۔