متحدہ عرب امارات میں جنسی تجارت

خاتون اور بیٹی کو ٹین ایجر کو جنسی تجارت کے لیے مجبور کرنے پر جیل کی سزا

Sadia Abbas سعدیہ عباس ہفتہ مئی 12:30

متحدہ عرب امارات میں جنسی تجارت
دبئی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) متحدہ عرب امارات میں ایک خاتون اور اسکی بیٹی کو جعلی پاسپورٹ استعمال کرکے بیرون ممالک سے نوجوان لڑکیوں کو دبئی لا کر جنسی تجارت کے لیے مجبور کرنے پر سال جیل کی سزا سنا دی گئی ہے ۔مزید تفصیلات کے مطابق گزشتہ سال مئی 2017 میں ایک 16 سالہ عراقی لڑکی نےایک بنگلے سے بھاگ کر شارجہ میں ایک مسجد میں تین دن کے لیے پناہ لیے رکھی تھی ۔

لڑکی کو بنگلے میں نامعلوم افراد کے ساتھ جنسی تعلقات استوار کرنے پر مجبور کیا گیا تھا لیکن وہ وہاں سے اپنی جان بچا کر بھاگ گئی تھی اور تین دن کے لیے شارجہ میں ایک مسجد میں چھپی رہی تھی ۔ لڑکی نے مسجد میں آئی ایک فلسطینی خاتون کو اپنی پریشانی کے بارے میں بتایا جو اسے پولیس اسٹیشن تک لے گئی تھی ۔

(جاری ہے)

16 سالہ لڑکی نے عدالت کو بتایا کہ 64 سالہ عراقی خاتون نے اسے باہر لاکر کام پر لگانے کے بہانے عراق سے جعلی پاسپورٹ کی مدد سے اسکے والدین کے گھر سے بھاگنے میں اسکی مدد کی تھی ۔

لیکن دبئی لاکر اسنے اسے اپنی 32 سالہ بیٹی کے ساتھ مل کر زبردستی جنسی تجارت پر لگا دیا تھا ۔ پولیس نے لڑکی کی شکایت پر بنگلے میں چھاپہ مار کر 64 سالہ خاتون کی 32 سالہ بیٹی کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ پولیس نے نے بنگلے سے 104,000 درہم نقدی اور باقی کی لڑکیوں کو بھی برآمد کرا لیا جنہیں دونوں ماں بیٹیاں جنسی تجارت کے لیے مجبور کرتی تھیں ۔

اتوار کے روز عدالت نے دونوں خواتین پر انسانی اسمگلنگ کے چارج میں 10 سال جیل کی سزا سنا دی ہے ۔ تاہم 64 سالہ خاتون بھاگنے میں کامیاب ہو گئی ہے لیکن عدالت نے خاتون کی غیر موجودگی میں ہی جرم ثابت ہو جانے پر خاتون کو بھی دس سال جیل کی سزا سنا دی ہے ۔ خاتون کی ہراست سے بازیاب ہونے والی ایک اور لڑکی نے عدالت کو بتایا کہ ان دونوں ماں بیٹیوں نے زبردستی اسے بندی بنا رکھا تھا اور ہر روز رات کو برہنہ لباس پہنا کر نا معلوم افراد کے ساتھ جنسی تعلقات کے اسے مجبور کرتیں ہیں ۔