روس بھر میں صدر پوٹن کے خلاف مظاہرے، صحافیوں اوراپوزیشن لیڈر سمیت 350افرادگرفتار

پولیس کا مظاہرین پر لاٹھی چارج اورآسو گیس کی شیلنگ،روسی صدر کے طور پر اپنے عہدے کی چوتھی مدت کے لیے پوٹن آج حلف اٹھائیں گے

اتوار مئی 12:40

ماسکو(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 مئی2018ء) روس کے مختلف شہروں میں صدر ولادیمیر پوٹن کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران سینکڑوں شہری گرفتار کر لیے گئے۔ کم از کم ساڑھے تین سو گرفتار شدگان میں ملکی اپوزیشن کے مرکزی رہنما آلیکسی ناوالنی بھی شامل ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق روسی دارالحکومت ماسکومیں بھی ایک بہت بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں ہزارہا شہریوں نے حصہ لیا۔

پولیس نے اس مظاہرے کو بلااجازت اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے آنسو گیس کا استعمال کر کے اس کے شرکاء کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔عینی شاہدین اور غیر جانبدار مبصرین کے مطابق گرفتار شدگان میں اکتالیس سالہ مرکزی اپوزیشن رہنما آلیکسی ناوالنی کے علاوہ ان کے قریبی اتحادی نکولائی لیاسکن اور بیسیوں دیگر کارکن بھی شامل ہیں، جنہیں ملکی دارالحکومت ماسکو کے ایک وسطی چوک سے احتجاجی ریلی کے دوران حراست میں لیا گیا۔

(جاری ہے)

ماسکو میں جس بڑی اپوزیشن ریلی پر قابو پانے کے لیے روسی پولیس کو خاصی تگ و دو کرنا پڑی، وہ موجودہ صدر ولادیمیر پوٹن کی صدارتی عہدے پر تقرری کی چوتھی مدت شروع ہونے سے محض دو دن پہلے نکالی گئی تھی۔ روسی صدر کے طور پر اپنے عہدے کی چوتھی مدت کے لیے پوٹن آج (پیر کو) کو حلف اٹھائیں گے۔یہ مظاہرے ماسکو اور سینٹ پیٹرزبرگ سے لے کر سائبیریا اور مشرق بعید تک کے روسی شہروں میں کیے گئے،روسی پولیس نے ملک کے مختلف شہروں میں آج اپوزیشن کے ان احتجاجی مظاہروں کا ناکام بنانے کی پوری کوشش کی۔

لیکن روس میں پوٹن کے مخالفین سیاسی طور پر کیا سوچتے ہیں، اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ یہ مظاہرین جو نعرے لگا رہے تھے، ان میں ’’چوتھی مدت جیل میں‘‘، ’’ہم تم سے تنگ پڑ چکے ہیں‘‘، ’’روس آزاد ہو کر رہے گا‘‘ اور ’’زار نامنظور‘‘ جیسے نعرے نمایاں تھے۔