سی سی پی نے شوگر سیکٹر میں کمپیٹیشن سے متعلقہ خدشات پراپنی رائے کا اجراء کر دیا

پیر مئی 18:32

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اپنی رائے کا اجراء کرتے ہوئے تجویز کیا ہے کہ وہ شوگر انڈسٹری کو مذید فعال اور مسابقانہ بنانے کے لئے اقدامات کرے ، گنے کی فصل کا معیار بہتر کرتے ہوئے اس کی پیداوار میں جدت کے ساتھ اضافہ کیا جائے اور اس اس کی بر آمد پر خا ص کر توجہ دی جائے۔

سی سی پی نے گنے کی پروکیورمنٹ سے متعلقہ خدشات کا نوٹس لیتے ہوئے ۵۲ جنوری ۸۰۱۲ کو کھلی سماعت کا انعقاد کیا تھا تا کہ اس معاملے پر تمام سٹیک ہولڈرز بشمول گنے کے کاشتکار، شوگر ملز مالکان،وفاقی اور صوبائی حکومتی عہدے داران ، پبلک اور پرائیویٹ کی تجارتی تنظیموں کے نمائندگان کی رائے لی جا سکے۔ اس کھلی سماعت کے بعد سی سی پی نے اس معاملے پر اپنی رائے جاری کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو تجویز کیا ہے کہ وہ گنے کی امدادی قیمت یا پرائس فلور ختم کر دے اور مارکیٹ کو طلب ورسد کے حساب سے قیمت کا تعین کرنے دے۔

(جاری ہے)

اور اگر گنے کی قیمت کا تعین ضروری ہو تو اس کا تعین آزادنہ اور قابل اعتماد اعدادوشمار اور باقی فصلوں کی امدادی قیمتوں کودیکھتے ہوئے کیا جائے۔ اور خاص طور پر جہاں پر امدادی قیمت کا تعین کیا جائے وہاں حکومت کو ایک خریدار کی طرح عمل کرتے ہوئے کسانو ں کو وقت پر اور مکمل ادائیگی کرنی چاہئے۔سی سی پی نے یہ بھی تجویز کیا ہے کہ امدادی قیمت کا تعین وزن کے بجائے معیار پر کیا جائے۔

جو کسا ن بہتر معیارکے گنے کی پیداوار کریں ان کو بہتر معیار کا صلہ بھی زیادہ کرنا چاہئے۔حکومت کو ریسرچ اور ڈیولیپمنٹ پر توجہ دیتے ہوئے گنے کی پیداوار کی لاگت کم کرنے اور پیداوار ومعیار کو بڑھانے کے لئے بھی اقدامات کرنے چاہئیں ۔کمیشن نے یہ بھی کہا کہ مل مالکان کو زیادہ فعالیت سے کام کرتے ہوئے ضمنی پیداوار پر بھی توجہ دینی چاہئے تا کہ شوگر کی پیداوار کی لاگت کم ہو اور کسانوں کو وقت پر ادائیگی ممکن بنائی جا سکے۔

کمیشن نے یہ بھی تجویز کیا کہ صوبائی حکومتوں کو قانون سازی کرتے ہوئے شوگر سیکٹر میں کھلے کمپیٹیشن کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے۔سی سی پی نے پرچون اور تھوک کی سطح پر قیمتوں کے بڑھائو کو روکنے کے لئے کہ لئے تجویز کیا ہے کہ ٹریڈنگ کارپوریشن پاکستان کو کم از کم مقدا ر کا محفوظ زخیرہ اپنے پاس رکھنا چاہئے تا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں قیمتوں کو کنٹرول میں رکھا جاسکے۔

لیکن اس کا استعمال احتیاط سے کیا جائے تا کہ آزادنہ مارکیٹ کا طریقہ کار متاثر نہ ہو۔سی سی پی نے یہ بھی تجویز کیا کہ متعلقہ حکومتی ڈیپارٹمنٹس کو شوگر کی رسد سے متعلقہ معاملات پر ہر قت آگاہ رہنا چاہیے اور یہ عمل شوگر کی برآمد کے عمل میں بھی مدد دے گا۔آخر میں سی سی پی نے تجویز کیا ہے کہ تما م سٹیک ہولڈ رز بشمول حکومتی اداروں پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی جائے جو کہ سی سی پی کی جانب سے جاری کردہ اس رائے پر عمل کرانے کا طریقہ کار طے کر سکیں۔

متعلقہ عنوان :