چیف جسٹس کاہسپتالوں کی حالت زارکا نوٹس لیناخوش آئندہے،عمران خان

چیف جسٹس سے مطالبہ ہے کہ کمیٹی بنائی جائے تاکہ پتا چلے کس حکومت نے کیا کام کیا ہے؟ہم جواصلاحات کیں وہ 40سالوں میں نہیں کی گئیں،ہم خیبرپختونخواہ کوپیرس بنانے کا کوئی دعویٰ نہیں کررہے ہیں۔چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی پریس کانفرنس

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ پیر مئی 17:48

چیف جسٹس کاہسپتالوں کی حالت زارکا نوٹس لیناخوش آئندہے،عمران خان
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔07مئی 2018ء) : تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے خیبرپختونخواہ ہسپتالوں کی حالت زار کا نوٹس لیا،،چیف جسٹس کوخوش آمدید کہتے ہیں،،چیف جسٹس سے مطالبہ ہے کہ کمیٹی بنائی جائے تاکہ پتا چلے کس حکومت نے کیا کام کیا ہے؟ہم خیبرپختونخواہ کوپیرس بنانے کا کوئی دعویٰ نہیں کررہے ہیں۔

انہوں نے آج اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ چیف جسٹس وہ کام کررہے ہیں جوحکومت کی ریگولیٹری اتھارٹی کوکرنے چاہیے تھے۔۔چیف جسٹس سپریم کورٹ کل خیبرپختونخواہ جارہے ہیں۔انہوں نے شکرہے کہ ہسپتالوں کی حالت زار کا نوٹس لیا تھا۔میں ان کوویلکم کرتا ہوں۔۔چیف جسٹس سے مطالبہ ہے کہ کمیٹی بنائی جائے تاکہ پتا چلے کس حکومت نے کیا کام کیا ہے؟ جبکہ باقی صوبوں اور کے پی کے میں جوبھی ترقیاتی کام ہوئے ہیں وہ سب سامنے آنا چاہیے۔

(جاری ہے)

عوام کوپتا چلنا چاہیے کہ کس حکومت نے عوام کیلئے تعلیم وصحت کیلئے کام کیا ہے؟انہوں نے کہاکہ لوگ باربار پوچھتے ہیں کہ ہماری حکومت نے پانچ سالوں میں کیا کام کیا ہے؟ تومیں کہتا ہوں کہ 40سالہ تاریخ میں کسی نے صحت کے شعبے کیلئے اصلاحات نہیں کیں جوپی ٹی آئی کی حکومت نے اصلاحات کی ہیں۔صحت کا بجٹ 30ارب سے 80ارب روپے تک لے گئے۔انگلینڈ اور امریکا سے 30ڈاکٹرز پاکستان واپس آگئے ہیں جو کہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں کام کررہے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ ہماری کارکردگی اس لیے نظرنہیں آتی کہ ہم نے اشتہاروں میں ترقی دکھا کراربوں روپے ضائع کرنے کی بجائے ہسپتالوں اور تعلیم پرخرچ کیے ہیں۔ہم خیبرپختونخواہ کوپیرس بنانے کا کوئی دعویٰ نہیں کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کیوں آج لوگ سرکاری ہسپتالوں میں علاج کروانے کیلئے نہیں جاتے ہیں۔بلکہ پیسے والے لوگ یہاں علاج کروانے کی بجائے بیرون ملک علاج کیلئے جاتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ عالمی ادارہ صحت نے شوکت خانم ہسپتال کوبہترین ہسپتال کا سرٹیفکیٹ دے دیا ہے۔عدالتوں میں کیسز جلد نمٹانے کیلئے چیف جسٹس کے ساتھ ملکر کام کیا ہے۔