کوئٹہ کوئلہ کان حادثہ ، شانگلہ میں دوسرے روز بھی فضاء سوگواررہی

پیر مئی 22:22

شانگلہ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) کوئٹہ میں شانگلہ سے تعلق رکھنے والی23محنت کشوں کی اموات کے بعد ضلع شانگلہ کی فضاء بدستور دوسرے روز بھی سوگوار رہی، مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین نے اتوار اور پیر کے درمیانی شب میتوں کی شانگلہ پہنچانے کے وقت موجود تھے ،اجتماعی نماز جنازوں نے شانگلہ کو ہلا دیا ،تاریخ ساز سانحے نے شانگلہ میں تمام تر سرگرمیوں کو مفلوج کردیا ، شانگلہ میں یکے بعد دیگرے سانحوں نے عوام کو جنجھوڑ کر رکھ دیا ، تعلیم کی کمی ، غربت کی شرح میں مسلسل اضافے سے شانگلہ کے غریب عوام کی ذہنوں کو مجبوراً کوئلے کے اس خطرناک کام کیلئے تیار کرتے ہیں جس میں جان کا خطرہ ہے ، یہ لوگ محسوس بھی کرتے ہیں تاہم کوئی دیگر چارہ نہیں ہوتا ، اس حوالے سے کوئٹہ بلوچستان حادثے میں جان بحق افراد کے ساتھ آنیوالے ایک کان کن سے تفصیلی طور پر ہمارے نمائندے نے بات کی تو انھوں نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا کہ ہر ایک لمحہ ہزاروں فٹ نیچے زمین میں یہ احساس ہوتا ہے کہ کب یہ چھتیں گرے گی یا گیس بھر کر دھماکہ ہوگا ، یہ واقعات اب ہماری مقدر بن چکی ہیں ۔