وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملہ ، پولیس متحرک ہو گئی

پولیس نے چھاپے مار کر مذہبی جماعتوں کے مزید کارکنوں کو گرفتار کر لیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین منگل مئی 11:07

وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملہ ، پولیس متحرک ہو گئی
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 08 مئی 2018ء) : وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملے کے بعد سے پولیس متحرک ہو گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے شکر گڑھ میں چھاپے مار کر مذہبی جماعت کے 8 سے زائد کارکنان اور رہنماؤں کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار افراد کو مختلف تھانوں میں رکھا گیا ہے۔ پولیس نے تحریک لبیک سمیت دیگر مذہبی جماعتوں کے سرگرم کارکنوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کر رکھا ہے۔

گرفتار ہونے والوں میں پروفیسر سعید احمد، طیب، ارشد اور دیگر شامل ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مذہبی جماعتوں کے مزید سرگرم کارکنوں کو بھی تلاش کرنے کا آغاز کر دیا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملے میں ملوث افراد کو گرفتار کر کے ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

(جاری ہے)

خیال رہے کہ اتوار کی شام وفاقی وزیر داخلہ احسن پرقاتلانہ حملہ ہوا جس کے بعد پولیس نے عابد نامی ملزم کو فوری طور پر ہی گرفتار کر لیا۔

یاد رہے کہ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹز کے مطابق حملہ آور کا تعلق تحریک لبیک سے ہے۔۔پولیس کے مطابق ملزم کا تعلق شکر گڑھ سے ہے، جو کارنر میٹنگ کی تقریب میں موٹر سائیکل پر شرکت کرنے آیا،ملزم کی موٹر سائیکل کو بھی قبضے میں لے لیا گیا، واقعہ کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال پرقاتلانہ حملہ کرنے والا کنجرورکے گاؤں ویرم کا رہائشی ہے ۔

ملزم عابد کے 2بھائی ہیں والد کا نام محمد حسین ہے۔ملزم عابد حسین پرچون کی دکان پرکام کرتا ہے۔ملزم کی تاریخ پیدائش 13مئی 1995ء ہے۔ملزم عابددبئی بھی جاچکا ہے۔دوسری جانب ڈی سی ناروال کا کہنا ہے کہ ملزم عابد سے متعلق تفتیش کی جارہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ملزم پرپہلے بھی ایک ایف آئی آر درج ہوچکی ہے۔تاہم انہوں نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ ملزم کے خلاف کس تھانے میں ایف آئی آر درج ہوئی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق حملہ آور کا تعلق تحریک لبیک سے ہے، ایجنسی رپورٹ کے مطابق حملہ آور نے ختم بنوت کے معاملے پر احسن اقبال پر حملہ کیا۔ واضح رہے یہ وہی جماعت نے جس کی جانب سے وفاقی دارالحکومت سمیت ملک کے مختلف حصوں میں ختم بنوت کے معاملے اور حلف نامے میں تبدیلی پر شدید احتجاج کیا تھا۔ پرتشدد مظاہروں کے دوران سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا تھا۔

بعد ازاں اعلیٰ قیادت کی یقین دہانی پر تحریک کے سربراہ خادم حسین رضوی نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ پولیس کو دئے اپنے اعترافی بیان میں ملزم عابد نے کہا کہ میں اپنے دوست عظیم کے ساتھ اس کی موٹر سائیکل پر کارنر میٹنگ میں پہنچا، ساتھی عظیم کوحملے کے حوالے سے معلوم نہیں تھا۔ ملزم نے کہا کہ مجھے داتا علی ہجویری نے احسن اقبال کو مارنے کا کہا۔

ملزم کا کہنا تھا کہ میں نے فیض آباد دھرنے میں ہی فیصلہ کیا کہ جو بھی گستاخ رسولﷺ ہو گا اُسے جہنم واصل کر دوں گا۔ عابد نے پولیس کو بتایا کہ میری والدہ کچھ مذہبی رہنماؤں کی کیسٹ سنتی ہیں، میری والدہ نے مجھے کہا تھا کہ بیٹا ان کے نقش قدم پر زندگی بسر کرنا، عابد نے کہا کہ مجھے خواب میں حضرت داتا علی ہجویری کی زیارت بھی ہوئی۔ وہ خادم حسین رضوی کو اُٹھائے ہوئے جا رہے تھے ، میں نے پوچھا کہ جناب آپ نے ان کو کیوں اُٹھایا ہوا ہے؟ جس پر انہوں نے کہا کہ یہ نبی پاک ﷺ کا بہت منظور نظر تھا۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ پولیس کواپنے اعترافی بیان میں ملزم عابد نے بتایا کہ میں نے ختم نبوت ﷺ کے معاملے پراحسن اقبال پرگولی چلائی۔گولی چلانے کا فیصلہ ذاتی تھا۔ دوسری جانب تحریک لبیک کے رہنماؤں نے اس حملے کی شدید مذمت کی ۔ تحریک لبیک کے رہنماء پیر افضل قادری نے کہا ہے کہ تحریک لبیک کسی بھی بدامنی کی حوصلہ افزائی نہیں کرتی،انتخابات کے قریب وزیرداخلہ پر حملہ قابل غور ہے،سازشوں کوکامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق تحریک لبیک کے رہنماء پیر افضل قادری نے وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال پرقاتلانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات کے قریب وزیرداخلہ پر حملہ قابل غور ہے۔تحریک لبیک کسی بھی بدامنی کی حوصلہ افزائی نہیں کرتی۔انہو ں نے کہاکہ تحریک لبیک کیخلاف سازشوں کوکامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ مزید برآں تحریک لبیک پاکستان کے امیر خادم حسین رضوی نے وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال پرحملے کی شدیدمذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ افسوسناک واقعہ مکمل طورپرسیکیورٹی اداروں کی ناکامی ثابت کرتاہے۔

جب حکومت ایک وفاقی وزیر کو سیکیورٹی نہیں دیسکتی تو عام عوام کی کی حفاظت کیسے ممکن ہوگی علامہ خادم حسین رضوی نے چیف جسٹس سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ احسن اقبال پرحملے کی عدالتی تحقیقات کی جائیں۔ انہوں نےکہا کہ تحریک لبیک ایک پرامن سیاسی مذہبی جماعت ہے جوسیاسی جدوجہداورانتخابات کے ذریعے ملک میں شریعت کا نفاذ چاہتی ہے۔