پنجاب پولیس کی سرپرستی اجرتی قاتلوں کے منظم گینگ چلائے جانے کا انکشاف

راولپنڈی نیو ٹاؤن کے علاقے میں تعینات ڈی ایس پی اعجاز شاہ کا گینگ رنگے ہاتھوں گرفتار ، تاجر کو بازیاب کروا لیا گیا

منگل مئی 20:50

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) پنجاب پولیس کی سرپرستی میں اجرتی قاتلوں کے منظم گینگ چلائے جانے کا انکشاف ہوا ہے ۔ راولپنڈی نیو ٹاؤن کے علاقے میں تعینات ڈی ایس پی اعجاز شاہ کے گینگ کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر کے تاجر کو بازیاب کروا لیا گیا۔ معتبر ذرائع کے مطابق راولپنڈی کے تھانہ نیو ٹاؤن کے علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن ایف سی یونیفارم اور سپیشل برانچ کے نام پر رفیق شاہ نامی شہری کو اغواء کر کے 50لاکھ روپے بھتہ مانگنے والے گروہ کو پولیس نے آئی جے پی روڈ سے پکڑ لیا۔

جس کے بعد ڈی ایس پی اعجاز شاہ اور اس کے گینگ میں کام کرنے والے سرکاری اہلکاروں کی دوڑیں لگ گئی۔ مذکورہ بالا افسران اور اہلکاروں نے نوکریاں بچانے کے لئے سی پی او آفس کے چکر لگانا شروع کر دیئے ۔

(جاری ہے)

اس حوالے سے آن لائن کو حاصل ہونے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس طرح پوش علاقے میںنہایت تربیت یافتہ شخص تاجر کے گھر پر فائرنگ کرتا ہے اور بعد ازاں اس کے ساتھی جن میں سے ایک نے ایف سی کی یونیفارم پہن رکھی اور دوسرا اسپیشل برانچ سے اپنا تعارف کرواتے ہوئے شہری کو ساتھ لے جاتے ہیں۔

مسلح افراد جو کہ سیاہ رنگ کی ویگو ایف یو 262ار کرولا گاڑی میں صبح ساڑھے سات بجے کے قریب شہری کے گھر پر حملہ آور ہو کر خواتین کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے سر عام اغواء کر کے لے جاتے ہیں اور باقاعدہ طور پر متاثرہ خاندان سے تاوان کی رقم کی بھی ڈیمانڈ کرتے ہیں۔ بعد ازاں اعلیٰ حکام کے نوٹس میں آنے کے بعد مذکورہ بالا ڈی ایس پی کے گینگ کو بے نقاب کر دیا گیا۔

متاثرہ شہری نے الزامات عائد کرتے ہوئے بتایا کہ کافی دنوں سے دھمکیاں مل رہی تھی میں نے سمجھا پولیس والے ہیں اس لئے دروازہ کھولا ۔ انہوں نے میرے ہاتھ میں پہنی ہوئی گھڑی مالیت 2لاکھ اتار لی اور مجھے اپنے ساتھ لے گئے۔ آئی جے پی روڈ پر گاڑی کھڑی کر کے 50لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کرتے رہے ۔ جس کے بعدمیرے ڈرائیور نے آئی جے پی روڈ پر ملزمان کو دیکھا اور پولیس کو اطلاع کی لیکن ڈی ایس پی نے مبینہ طور پر لاکھوں روپے بھتہ لے کر ملزمان کی پشت پناہی شروع کر دی ہے یہی وجہ ہے پولیس کی جانب سے مقدمہ درج کرنے کے لئے ٹال مٹول سے کام لیا جا رہا ہے دوسری طرف پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ متاثرہ شخص کے خلاف راولپنڈی اور اسلام آباد میں متعدد مقدمات درج ہیں ۔

اس حوالے سے ڈی ایس پی اعجاز شاہ سے مؤقف جاننے کے لئے کئی بار رابطہ کیا گیا لیکن ان کا مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :