ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو ختم کر سکتے ہیں، راب میلی کو خدشہ

منگل مئی 20:51

واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) تنازعے حل کرنے کے ماہر اور باراک اوبامہ کے سابق مشیر راب میلی،جنہوں نے ایرانی جوہری معاہدے کے مذاکرات میں مدد کی تھی،کو کوئی شک نہیں ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اس معاہدے کو ختم کردیں گے۔ امریکی صدر سے توقع کی جارہی ہے کہ وہ منگل کو تہران پر اقتصادی پابندیاں دوبارہ عائد کریں گے،جس کی وجہ سے امریکہ اس معاہدے سے نکل جائے گا،لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ معاہدہ مر جائے گا اور اسے دفن کردیا جائے گا۔

میلی ،جو اس وقت امن کے قیام کیلئے کام کرنے والے تھینک ٹینک انٹرنیشنل کرائسز گروپ کے سربراہ ہیں،نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ 2015ء میں ہونے والے معاہدے کے اصل یورپی حامی ممالک کو لازمی طور پر تہران کو معاہدے میں رکھنا چاہئے۔

(جاری ہے)

ٹرمپ نے ’’خوفناک‘‘معاہدے پر اپنے مسلسل حملوں کے ذریعے اس کے بارے میں اس ابتدائی بین الاقوامی رائے کو تبدیل کیا ہے،جس کے مطابق اس معاہدے کی وجہ سے ایران کے جوہری ہتھیاروں کے ارادے ختم کرنے میں کامیابی ملی ہے۔

لیکن میلی،جنہوں نے اوبامہ کے وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کونسل میں خدمات سرانجام دی تھیں،کو امید ہے کہ معاہدے پر دستخط کرنے والے ساتھی ممالک برطانیہ،،،فرانس اور جرمنی تہران کے ساتھ کام کرکے معاہدے کو زندہ رکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ معاہدہ اب بھی ایران کو جوہری ہتھیاروں کی مبینہ تلاش سے روکنے کیلئے ضروری ہے۔