بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرناسلامتی کونسل کی قرارداد 478 کی خلاف ورزی ہے، پی ایل او

یہ منصفانہ امن کا خاتمہ ہے،امریکی سفارتخانے کی افتتاحی تقریب کے بائیکاٹ کیا جائے،سکریٹری مجلس عاملہ پی ایل او

بدھ مئی 22:34

غزہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) تنظیم آزادی فلسطین (پی ایل او) کی مجلس عاملہ کے سکریٹری صائب عریقات نے باور کرایا ہے کہامریکا کا بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا نہ صرف سلامتی کونسل کی قرارداد 478 کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ منصفانہ امن کے خاتمے کے لئے کافی ہے،پی ایل او امریکی سفارت خانے کی افتتاحی تقریب کے بائیکاٹ کا مطالبہ کرتی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق تنظیم آزادی فلسطین (پی ایل او) کی مجلس عاملہ کے سکریٹری صائب عریقات نے باور کرایا ہے کہ امریکا کا بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا نہ صرف سلامتی کونسل کی قرارداد 478 کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ منصفانہ امن کی امید کے خاتمے کی اسرائیلی حکمت عملی کے عین مطابق ہے جو 1967 کی سرحد پر دو ریاستی مستقل حل نہیں چاہتا۔

(جاری ہے)

عریقات کے مطابق بیت المقدس میں امریکی سفارت خانے کے افتتاح میں شرکت اس جانب دارانہ اور غیر قانونی اقدام کو تسلیم کرنا شمار ہو گی۔پی ایل او کے رہنما کا کہنا ہے کہ "ہم عالمی برادری کے علم میں مسلسل یہ بات لا چکے ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ کا برتاؤ بین الاقوامی انارکی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور بین الاقوامی تنظیموں اور قوانین کے عدم احترام کو سراہتا ہے۔

یہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ عالمی برادری پر لازم ہے کہ وہ قانون کی بالادستی کے بنیادی اصولوں کے تحفظ کے حوالے سے اپنی ذمے درایاں پورے کرے۔ ان میں کوئی ایسا اقدام نہ کرنا بھی شامل ہے جو مذکورہ غیر قانونی قدم کو تسلیم کرنے کے طور پر شمار کیا جا سکتا ہو"۔عریقات نے مزید کہا کہ "گوئے مالا اور پیراگوائے یہ اعلان کر چکے ہیں کہ وہ 14 اور 16 مئی کو اپنے سفارت خانے بیت المقدس منتقل کر کے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی میں ٹرمپ انتظامیہ کی پیروی کریں گے۔

ہم سفارتی مشنوں اور سول سائٹیز کے تمام ارکان اور مذہبی حکام سمیت عالمی برادی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ سفارت خانوں کے افتتاح کی تقریب کا بائیکاٹ کریں۔ اس بائیکاٹ کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ عالمی برادری بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر سختی سے کاربند ہی"۔