صومالیہ کی القات مارکیٹ میں بم دھماکا ، پانچ افراد ہلاک،دس زخمی

دھماکے کے وقت بڑی تعدادمیں لوگ القات نامی قوت بخش پودے کے پتوں کی خریداری میں مصروف تھے

جمعرات مئی 15:06

موغادیشو(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) صومالیہ کے جنوب میں شبیلی زیریں کے علاقے میں واقع القات مارکیٹ میںبم دھماکے کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک اور دس زخمی ہوگئے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق دارالحکومت مقدیشو سے شمال مغرب میں 90 کلومیٹر دور واقع قصبے ونلاوین کے مصروف بازار میں ہونے والے اس دھماکے کی فوری طور پر وجہ معلوم نہیں ہوسکی ہے۔

دھماکے کے وقت لوگوں کی بڑی تعداد القات نامی قوت بخش پودے کے پتوں کی خریداری میں مصروف تھی۔اس قصبے میں واقع اسپتالوں میں طبی سہولتیں دستیاب نہیں ہیں جس کے پیش نظر زخمیوں کو ان کے لواحقین اپنے گھروں ہی میں لے گئے ہیں ۔۔پولیس کا کہنا تھا کہ وہ اس امر کی تحقیقات کررہی ہے کہ آیا بم القات مارکیٹ میں نصب کیا گیا تھا یا یہ ایک خودکش بم حملہ ہے۔

(جاری ہے)

پولیس کپتان فرح اسماعیل نے بم دھماکے میں پانچ ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔زخمیوں میں بعض فوجی بیا شامل ہیں ۔فوری طور پر کسی گروپ نے اس بم دھماکے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔ماضی میں القاعدہ سے وابستہ الشباب جنگجو گروپ اس طرح کے حملوں اور بم دھماکوں کی ذمے داری قبول کرتا رہا ہے۔الشباب کے جنگجو صومالیہ کی مرکزی حکومت کے خلاف گذشتہ دوعشروں سے جنگ آزما ہیں اور وہ اس کی جگہ اپنی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں لیکن گذشتہ برسوں کے دوران میں صومالی سکیورٹی فورسز نے انھیں دارالحکومت مقدیشو اور دوسرے شہروں سے نکال باہر کیا ہے اور اب وہ دیہی علاقوں میں موجود ہیں اور وقفے وقفے سے سکیورٹی فورسز یا عام شہریوں کے خلاف حملے کرتے رہتے ہیں ۔