پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی نے فور جی ٹیکنالوجی کے اجراء کے لئے فریکوئنسی ایلوکیشن بورڈ سے فریکونسی مختص کرنے کی درخواست کر دی،, موبائل فون چوری اور غیر قانونی موبائل فونز سمیت دیگر ڈیوائسز کی سمگلنگ روکنے کیلئے ایڈنٹیفکیشن رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم ( ڈی آئی آر بی ایس) کا اجراء کر دیا

چیئرمین پی ٹی اے محمد نوید اور ممبر شکایات عبدالصمد کا پی ٹی اے ہیڈ کوارٹرز میں تقریب سے خطاب

جمعرات مئی 16:30

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی ( پی ٹی ای) نے فور جی ٹیکنالوجی کے اجراء کے لئے فریکوئنسی ایلوکیشن بورڈ سے فریکونسی مختص کرنے کی درخواست کر دی۔ موبائل فون چوری اور غیر قانونی موبائل فونز سمیت دیگر ڈیوائسز کی سمگلنگ روکنے کیلئے آئیڈنٹیفکیشن رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم ( ڈی آئی آر بی ایس) کا اجراء کر دیا۔

اس موقع پر جمعرات کو پی ٹی اے ہیڈ کوارٹرز میں ایک تقریب سے چیئرمین پی ٹی اے محمد نوید اور ممبر شکایات عبدالصمد نے خطاب کیا اور صحافیوں کے سوالات کے جواب بھی دیئے۔ چیئرمین پی ٹی اے نے اس موقع پر کہا کہ ملک میں اس قوت براڈ بینڈ صارفین کی تعداد 5 کروڑ سے بڑھ چکی ہے۔ موبائل آپریٹرز نے اپنا دائرہ کار 65فیصد آبادی تک پھیلا دیا ہے۔

(جاری ہے)

چیئرمین پی ٹی اے نے کہاکہ اتھارٹی صارفین کی ضروریات سے بخوبی آگاہ ہے اور ہم نے ان کے مسائل کے حل کے لئے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں۔

اس نئی سروس کا آغاز بھی پی ٹی اے کی بصیرت اور صارفین کے حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ پی ٹی اے کی مخلصانہ کاوشوں کاثبوت ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس نظام کے نفاذ سے غیر معیاری، جعلی، غیر قانونی طورپر درآمد شدہ موبائل فونز کی شناخت ، رجسٹریشن اور موبائل فون نیٹ ورکس پر نان کمپلینٹ ڈیوائسز کی غیر قانونی درآمد کی حوصلہ شکنی،قانونی درآمدات اور موبائل ڈیوائس استعمال کنندگان اور سکیورٹی کی مجموعی صورتحال میں بہتری آئے گی۔

چیئرمین پی ٹی اے نے کہاکہ پی ٹی اے نے صارفین کو ہمیشہ ٹیلی کام کی بہترین خدمات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے حقوق کے تحفظ پر بھی زور دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں ٹیلی کام کی ترقی کے اعداد وشمار اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ صارفین ان خدمات کے معیار سے مطمئن ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ آج موبائل آپریٹروں نے اپنا دائرہ کار پاکستان کی 65 فیصد آبادی تک بڑھا دیا ہے۔

2014ء میں براڈ بینڈ کی رفتار بھی کم تھی اور صارفین کی تعداد 1.3ملین تھی۔ آج 2018ء میں صارفین کی تعداد 50 ملین اور موبائل براڈ بینڈ کی رفتار 20 ایم بی سے بھی زیادہ ہے اور فکسڈ براڈ بینڈ کی رفتار 100 ایم بی ڈائون لوڈ سے زائد ہے۔ اس موقع پر براڈ بینڈ کے صارفین کی تعداد 50ملین ہونے پر کیک کاٹنے کی تقریب بھی منعقد ہوئی۔ واضح رہے کہ ڈیوائس ویری فکیشن سسٹم سے پی ٹی اے ریگولیشنز کے مطابق www.dribs.pta.gov.pk سے اپنے فون کی آئی ایم ای آئی 8484 پر ایس ایم ایس کرکے موبائل ڈیوائسز کی تصدیق کرسکتے ہیں یا گوگل اور ایپل پلے سٹور سے ڈی آر بی ایس اینڈ رائڈ موبائل ایپ ڈائون لوڈ کر سکتے ہیں۔

آئی ایم ای کی بلاکنگ سے بچنے کے لئے اپنے نان آپریشنل موبائل ڈیوائسز کی ڈی آئی آر بی ایس کے ذریعے `15 جون تک تصدیق کروائی جا سکتی ہے۔ ممبر شکایات عبدالصمد نے بتایاکہ ڈی آئی آر بی ایس سسٹم مکمل طور پر پاکستان میں تیار کیا گیا ہے، یہ خیال ترک ماہرین کے دورہ پاکستان کے موقع پر ہمارے ذہن میں آیا۔ انہوں نے کہا کہ اس نظام کے تحت چوری شدہ اور غیر قانونی طور پر پاکستان لائے گئے موبائل فون سیٹوں کی فروخت اور نیٹ ورک پر استعمال ہونے سے روکنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈی آئی آر بی ایس کے ذریعے کوئی چوری شدہ یا چھینا گیا موبائل فون جونہی کمپنی کے نیٹ ورک پر آن ہو گا پی ٹی اے کے پاس اس کی اطلاعات فوراً پہنچ جائیں گی، ایسے سیٹوں کو فوری طور پر بند کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ قبل ازیں مارکیٹ میں چوری شدہ اور غیر قانونی موبائل فونز کے آئی ایم ای آئی نمبر تبدیل کرکے استعمال میں لایا جاتا تھا مگر اب ایسا نہیں ہو گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ یہ سسٹم غیر معیاری موبائل کو مارکیٹ میں آنے سے روکنے میں مدد دے گا اور سروس کے معیار کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ کسٹم حکام کے ساتھ اس نظام کو مربوط کریں گے کیونکہ غیر قانونی سمگلنگ سے قومی خزانہ کو ایک ارب 10 کروڑ روپے سالانہ نقصان پہنچایا جا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی صارف 848 پر ایس ایم ایس کرکے اپنے موبائل سے متعلق شکایت درج کرا سکے گا، اس کا موبائل فوری طور پر بند کرا دیا جائے گا اور آئندہ کسی نیٹ ورک پر وہ قابل استعمال نہیں ہو گا۔