العزیزیہ ریفرنس ،ْنواز شریف کی مریم نواز کو رقوم کی منتقلی کی تفصیلات عدالت میں پیش

14 اگست 2016 کو نواز شریف نے مریم نواز کو ایک کروڑ 95 لاکھ کا چیک جاری کیا ،ْواجد ضیاء جون 2015 کو نواز شریف نے مریم نواز کو بارہ ملین اور تین نومبر 2015 کو 2 کروڑ 88 لاکھ کا چیک دیا ،ْبیان عربی زبان میں موصول ایم ایل اے کے جواب کا ترجمہ ساتھ نہیں تھا، جس شخص نے ترجمہ کیا اسے گواہ نہیں بنایا گیا ،ْخواجہ حارث جے آئی ٹی رپورٹ جمع ہونے کے بعد کا قطری شہزادے کا جواب ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں ،ْنیب پراسیکیوٹر

جمعہ مئی 13:30

العزیزیہ ریفرنس ،ْنواز شریف کی مریم نواز کو رقوم کی منتقلی کی تفصیلات ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) شریف خاندان کے خلاف العزیزیہ ریفرنس میں نیب کے گواہ واجد ضیاء نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے مریم نواز کو جاری کردہ چیکس کی تفصیلات عدالت میں پیش کردیں۔ جمعہ کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نیب کی جانب سے دائر العزیزیہ ریفرنس کی سماعت کی ۔استغاثہ کے گواہ واجد ضیاء ایون فیلڈ کے بعد العزیزیہ ریفرنس میں بھی مسلسل دوسرے روز بیان قلمبند کروایا ۔

واجد ضیاء نے نواز شریف کی جانب سے مریم نواز کو جاری چیکوں کی تفصیلات عدالت میں پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 14 اگست 2016 کو نواز شریف نے مریم نواز کو ایک کروڑ 95 لاکھ کا چیک جاری کیا۔واجد ضیاء کے مطابق 13 جون 2015 کو نواز شریف نے مریم نواز کو بارہ ملین اور تین نومبر 2015 کو 2 کروڑ 88 لاکھ کا چیک دیا۔

(جاری ہے)

نیب کے گواہ نے بتایا کہ یکم نومبر 2015 کو نواز شریف نے مریم نواز کو 65 لاکھ،10 مئی 2015 کو دس کروڑ پچاس لاکھ، 21 نومبر 2015 کو 18 لاکھ روپے اور 27 مارچ 2016 کو 40 ملین کا چیک جاری کیا۔

واجد ضیاء کے مطابق نواز شریف کی جانب سے 10 فروری 2016 کو 30 ملین، 14 فروری 2016 کو 50 لاکھ، دس مئی 2016 کو 37 ملین اور 31 جنوری 2017 کو 6 ملین کا چیک مریم صفدر کے نام جاری کیا گیا۔۔متحدہ عرب امارات سے 28 جون 2017 کو ملنے والے ایم ایل اے کا جواب عدالتی ریکارڈ عدالت میں پیش کیا گیا، عربی زبان میں ایم ایل اے کا جواب بھی عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ عربی زبان میں موصول ایم ایل اے کے جواب کا ترجمہ ساتھ نہیں تھا، جس شخص نے ترجمہ کیا اسے گواہ نہیں بنایا گیا۔نیب پراسیکیوٹر کا اس موقع پر کہنا تھا کہ جے آئی ٹی رپورٹ جمع ہونے کے بعد کا قطری شہزادے کا جواب ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں، قطری شہزادے کا جوابی خط 17 جولائی 2017 کو جے آئی ٹی کو موصول ہوا جبکہ اس خط کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنادیا گیا۔نیب نے عدالت میں اضافی دستاویزات جمع کروانے کی درخواست جمع کرائی جس پر فاضل جج محمد بشیر نے کہا کہ نیب کی اس درخواست کو بعد میں دیکھ لیں گے۔