طاقت اور تعلقات مشکوک باﺅلنگ ایکشن کے قانون پر اثرانداز ہورہے ہیں : محمد حفیظ

کئی باﺅلر 30ڈگری پر باﺅلنگ کررہے ہیں لیکن کبھی رپورٹ نہیں ہوئے :سابق کپتان

ہفتہ مئی 12:15

طاقت اور تعلقات مشکوک باﺅلنگ ایکشن کے قانون پر اثرانداز ہورہے ہیں ..
لاہور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔12مئی 2018ء) قومی ٹیم کے آل راﺅنڈر محمد حفیظ کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کے مشکوک باﺅلنگ ایکشن سے متعلق قانون پر طاقت، تعلقات اور نرم گوشہ اثرانداز ہوتے ہیں۔ایک انٹر ویو کے دوران محمد حفیظ نے کہا کہ وہ جب اپنے بائیو مکینک ٹیسٹ کے لیے گئے تو انہیں پتہ لگا کہ ان کی باﺅلنگ 16،17اور 18 ڈگری پر ہے،وہ یہ سن کر حیران ہوئے کہ انسانی آنکھ یہ کیسے یہ دیکھ سکتی ہے کہ ان کی بولنگ 15ڈگری کی مقررہ حد سے صرف ایک ڈگری زیادہ ہے۔

محمد حفیظ کا کہنا ہے کہ امپائرز اور میچ ریفریز کو ان کا تو 16 ڈگری پر باﺅلنگ کرنا نظر آگیا لیکن 25،30 اور اس سے بھی زیادہ ڈگری پر باﺅلنگ کرنے والے بہت سے باﺅلرز ابھی تک رپورٹ نہیں ہوئے ،ان کے خیال میں مشکوک بولنگ ایکشن سے متعلق قانون پر کئی چیزیں اثر انداز ہو رہی ہیں،بہت سے کرکٹ بورڈز کی طاقت ہے جس کے سامنے کوئی بولنا نہیں چاہتا، بہت سی جگہوں پر تعلقات ہیں جنہیں کوئی خراب کرنا نہیں چاہتا،بہت سی جگہوں پر نرم گوشہ اختیار کیا جانا ہے۔

(جاری ہے)

محمد حفیظ نے تجویز دی کہ جو بھی باﺅلرز اس وقت انٹرنیشنل کرکٹ میں باﺅلنگ کر رہے ہیں ان کے لیے پہلے بائیو مکینک ٹیسٹ کلیئر کروانا لازمی قرار دیا جائے جس کے بعد ہی وہ انٹر نیشنل کرکٹ میں باﺅلنگ کے اہل قرار پائیں ۔سابق ٹی ٹونٹی کپتان نے صرف بطور بلے باز قومی ٹیم میں اپنی جگہ نہ بن پانے کے سوال پر کہا کہ 2010 ءمیں ٹیم میں واپس آنے کے بعد ٹیسٹ کرکٹ میں اوپنر کی حیثیت سے کھیلتے ہوئے میں نے 40 کی اوسط سے رنز بنائے ہیں اور 7 سنچریاں سکور کی ہیں جب کہ ون ڈے کرکٹ میں بھی 11سنچریاں بنائی ہیں، کوئی یہ سمجھتا ہے کہ بغیر باﺅلنگ کے ٹیم میں جگہ نہیں بنتی تو میری جگہ ان کھلاڑیوں کو ٹیم میں لایا جائے جو باﺅلنگ بھی کرتے ہوں لیکن اگر وہ بھی بیٹسمین ہیں تو اگر میری بیٹنگ اوسط ان سے زیادہ ہے تو یہ ان بیانات پر سوالیہ نشان ہے جو میرے بارے میں دیے جاتے ہیں۔

یاد رہے کہ محمد حفیظ کو گذشتہ دنوں آئی سی سی نے بائیو مکینک تجزیے میں کامیاب ہونے کے بعد بین الاقوامی کرکٹ میں دوبارہ باﺅلنگ کی اجازت دے دی ہے،محمد حفیظ کا باﺅلنگ ایکشن گذشتہ سال پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ابوظہبی میں کھیلے گئے تیسرے ون ڈے انٹرنیشنل میں رپورٹ ہوا تھا۔