اقوام متحدہ کا 2030ء تک دنیا میں ہر بچے کی پرائمری تعلیم تک رسائی یقینی بنانے کیلئے دس ارب ڈالر کی فنڈنگ کا منصوبہ

ہفتہ مئی 13:05

اقوام متحدہ ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 مئی2018ء) اقوام متحدہ نے ورلڈ بنک اور دیگر ترقیاتی بنکوں کے تعاون سی2030ء تک دنیا میں ہر بچے کی پرائمری تعلیم تک رسائی یقینی بنانے کیلئے دس ارب ڈالر کی فنڈنگ کا منصوبہ بنایا ہے۔ منصوبے کا اعلان نوجوان سماجی کارکنوں کی طرف سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نام ایک پٹیشن پر کیا گیا۔ پٹیشن پر پاکستان اور بنگلہ دیش سے 15 لاکھ افراد نے دستخط کئے ہیں جبکہ اس سے قبل پٹیشن پر دنیا بھر سے ایک کروڑ افراد نے دستخط کئے تھے۔

پٹیشن میں دنیا بھر کے رہنمائوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ وسائل سے محروم بچوں اور بچیوں کے سکول بھجوانے کے لئے بڑے پیمانے پر فنڈنگ کا انتظام کرتے ہوئے اس مقصد کے لئے کم از کم دس ارب ڈالر کی اضافی رقم فراہم کریں۔

(جاری ہے)

تعلیم کے لئے اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب سابق برطانوی وزیر اعظم گورڈن برائون نے اس موقع پر ایک بیان میں کہا کہا دنیا بھر میں 26 کروڑ بچے سکول نہیں جاتے اور یہ رجحان جاری رہا تو2030ء تک گیارہ سال عمر کے سکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد 40 کروڑ تک پہنچ جائے گی۔

اقوام متحدہ کے نئے منصوبے کے اہداف حاصل کرنے کے لئے بچوں سے جبری مشقت، کم عمری کی شادیوں اور بچیوں کے ساتھ امتیازی سلوک جیسے مسائل پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی۔ اس کے علاوہ حکومتوں پر زور دیا جائے گا کہ وہ اپنے ہاں تعلیمی معیار کو بہتر بنایئں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اس موقع پر اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ بعض ممالک میں اب بھی بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی کو اولین ترجیح نہیں دی جا رہی۔

انہوں نے کہا کہ ہنگامی صورتحال میں غذائی اور ضرورت کی دیگر اشیاء کی فراہمی پر تو توجہ دی جاتی ہے لیکن سکولوں کو فعال کرنے کو اولین ترجیح نہیں دی جاتی۔ مزید براں یہ کہ امدادی سرگرمیوں کے دوران تعلیم کے لئے بہت کم فنڈنگ کی جاتی ہے۔ سیکرٹری جنرل نے کہا کہ آئندہ دس سال کے دوران ایک ارب نوجوان لیبر مارکیٹ میں قدم رکھیں گے اور اس مارکیٹ کی ضروریات موجودہ مارکیٹ کی ضروریات سے بالکل مختلف ہوں گی لہذا ان نوجوانوں کو مستقبل کی ضروریات کو مد نظر رکھ کر تعلیم دینا ہوگی۔