انڈونیشیاکی تین مسیحی عبادت گاہوں میں خود کش دھماکوں سی13 افراد ہلاک،62زخمی

دھماکے سانتا ماریہ کیتھولک ، انڈونیشین کرسچن اور پیٹیکوسٹ سینٹرل چرچ میں ہوئے ،زخمیوں میں ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکار بھی شامل انڈونیشی وزیر خارجہ کی دھماکوں کی مذمت ، متاثرین سے اظہار تعزیت، ہم ان سے ڈرتے نہیں،دہشت گردی کے خلاف متحد ہیں،بیان /حملوں میں داعش ملوث ہے ،انٹیلی جنس ادارے

اتوار مئی 13:10

جکارتہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) انڈونیشیا کے دوسرے بڑے شہر سورابایا میں تین مسیحی عبادت گاہوں پر ہونے والے خود کش دھماکوں میں 13 افراد ہلاک اور 62 زخمی ہوگئے۔ دھماکے سانتا ماریہ کیتھولک چرچ، انڈونیشین کرسچن چرچ اور پیٹیکوسٹ سینٹرل چرچ میں ہوئے،ادھر پولیس نے بتایا ہے کہ ہمیں خدشہ ہے کہ مذکورہ دھماکے خود کش تھے جبکہ ہم نے ایک مقتول کی شناخت کرلی ہے۔

پولیس نے دھماکوں کے بعد جائے وقوع پر پہنچ کر متاثرہ عبادت گاہوں کو گھیرے میں لے کر شواہد جمع کیے اور تحقیقات کا آغاز کردیا۔بعد ازاں انڈونیشیا کی خاتون وزیر خارجہ ریٹنو مارسودی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں دھماکوں کی مذمت اور متاثرین سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہاہے کہ ہم دہشت گردی کے خلاف متحد ہیں اور ہم ان سے ڈرتے نہیں،ادھرملک کی انٹیلی جنس ایجنسی نے کہاہے کہ ان دھماکوں کے پیچھے مبینہ طور پر داعش کے نظریات سے متاثر گروہ ملوث ہوسکتا ہے تاہم فوری طور پر ان دھماکوں کی ذمہ داری کسی بھی گروہ کی جانب سے قبول نہیں کی گئی۔

(جاری ہے)

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق تمام دھماکے مختصر وقفے کے بعد ہوئے جن میں 62افراد زخمی بھی ہوئے،دھماکے کے متاثرین میں دو پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ دھماکے صبح ساڑھے 7 بجے کے قریب ہوئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ دھماکے سانتا ماریہ کیتھولک چرچ، انڈونیشین کرسچن چرچ اور پیٹیکوسٹ سینٹرل چرچ میں ہوئے۔ پولیس ترجمان نے بتایاکہ سینٹ ماریہ چرچ میں ہونے والے دھماکے میں چھ افراد ہلاک ہوئے جبکہ دیگر مسیحی عبادت گاہوں میں ہونے والے دھماکوں میں تین، تین افراد ہلاک ہوئے، ان کا کہنا تھا کہ دھماکوں میں زخمی ہونے والا ایک شخص دوران علاج ہسپتال میں دم توڑ گیا۔

پولیس ترجمان کے مطابق ہمیں خدشہ ہے کہ مذکورہ دھماکے خود کش تھے جبکہ ہم نے ایک مقتول کی شناخت کرلی ہے۔۔پولیس نے دھماکوں کے بعد جائے وقوع پر پہنچ کر متاثرہ عبادت گاہوں کو گھیرے میں لے کر شواہد جمع کیے اور تحقیقات کا آغاز کردیا۔بعد ازاں انڈونیشیا کی خاتون وزیر خارجہ ریٹنو مارسودی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں دھماکوں کی مذمت کی اور سورابایا میں ہونے والے دھماکوں کے متاثرین سے اظہار تعزیت کیا جبکہ ساتھ ہی ہیش ٹیگ کے ساتھ کہاکہ ہم دہشت گردی کے خلاف متحد ہیں اور ہم ان سے ڈرتے نہیں۔

ملک کی انٹیلی جنس ایجنسی کا کہنا تھا کہ ان دھماکوں کے پیچھے مبینہ طور پر داعش کے نظریات سے متاثر گروہ ملوث ہوسکتا ہے۔ تاہم فوری طور پر ان دھماکوں کی ذمہ داری کسی بھی گروہ کی جانب سے قبول نہیں کی گئی۔خیال رہے کہ انڈونیشیا مسلم اکثریت والا ملک ہے تاہم یہاں گزشتہ کچھ ماہ سے عسکریت پسندی میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔کچھ روز قبل دارالحکومت جکارتہ کے مضافات میں قائم ایک ہائی پروفائل جیل میں قید عسکریت پسند گروہ کے متعدد ارکان کو فرار کرانے کی کوشش کی گئی تھی اور اس حملے میں انڈونیشیا کی سیکیورٹی فورسز کے پانچ اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔