چاول کی بھرپور پیداوار کے حصول اور برآمدات میں اضافہ کیلئے تمام سٹیک ہولڈرزکو فعال کردار ادا کرنے کی ہدایت کر دی گئی

اتوار مئی 14:20

فیصل آباد۔13 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) زرعی ادویات کی باقیات سے پاک چاول کی بھرپور پیداوار کے حصول اور برآمدات میں اضافہ کیلئے تمام سٹیک ہولڈرزکو فعال کردار ادا کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اوربتایا گیا ہے کہ چونکہ دنیابھرمیں پاکستان کے اعلیٰ معیار کے حامل چاول کی زبردست مانگ موجودہے اس لئے معیاری چاول کی بمپر کراپ حاصل کرکے جہاں قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جاسکتاہے وہیں ملکی غذائی ضروریات بھی باآسانی پوری کی جاسکتی ہیں۔

محکمہ زراعت کے ذرائع نے کہاکہ چاول میں زرعی ادویات کی باقیات کی ٹیسٹنگ و مانیٹرنگ کے نظام کو زیادہ مؤثر بنانے کیلئے سہولتوں کا جائزہ لیا جارہاہے تاکہ ان میں مزید بہتری لائی جاسکے۔ انہوں نے کہاکہ تمام سٹیک ہولڈرز بشمول محکمہ زراعت اوررائس ایکسپورٹ ایسوسی ایشن پاکستان زرعی ادویات کی باقیات سے پاک چاول کی پیداوار کے حصول کیلئے کاشتکاروں کی بروقت رہنمائی اور مدد کریں ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اس مقصد کیلئے صوبائی سطح پر ریگولیٹری فریم ورک کو مضبوط بنایاجارہاہے ۔انہوں نے محکمہ زراعت کے افسران اور چاول کے برآمد کنندگان کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی بنانے کا اعلان بھی کیا جو دھان کی فصل کی بیماریوں اور نقصان دہ کیڑوں کے بروقت تدارک کیلئے ماحول دوست زرعی زہروں کے استعمال کو یقینی بنانے سمیت زرعی ادویات کی باقیات کے اثرات سے پاک چاول کی پیداوار اور برآمد میں اضافہ کیلئے اپنا کردار ادا کرے گی ۔

انہوںنے کہا کہ رائس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کالا شاہ کاکو میں موجود پیسٹی سائیڈ لیبارٹری کو مزید اپ گریڈ کر کے عالمی معیار کے مطابق بنایا جائے گا جس سے برآمد کنندگان کو مقامی طور پر چاول کی زرعی ادویات کی باقیات کی ٹیسٹنگ کی سہولت میسر ہو گی جس سے چاول کی برآمد میں مزید اضافہ ممکن ہو گا۔

متعلقہ عنوان :