وزارت انسانی حقوق میں آگاہی فنڈز اقرباء پروری ، افسرشاہی اور کرپشن کی بھینٹ چڑھا دیا گیا

کروڑوں روپے کا بجٹ نمود ونمائش اور غیرضروری اخراجا ت کی مد میں اڑا دیا گیا ، اصل مقصد کیلئے صرف 1.5ملین روپے لگائے گئے میگا کرپشن کا معاملہ جلد نیب بھجوانے کیلئے تیاریاں شرو ع

اتوار مئی 18:50

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) وزارت انسانی حقوق میں ریسرچ، تعلیم اوربنیادی حقوق کی آگاہی کیلئے فنڈز کو اقرباء پروری ، افسرشاہی اور کرپشن کی بھینٹ چڑھا دیا گیاہے، میگا کرپشن کے خلاف معاملہ کو بہت جلد نیب بھجوانے کیلئے تیاریاں شرو ع کردی گئی۔ وزارت انسانی حقوق نے گزشتہ سال ریسرچ، تعلیم،، بنیادی انسانی حقوق کی آگاہی کیلئے مختص کردہ کروڑوں روپے کا بجٹ نمود ونمائش اور غیرضروری اخراجا ت کی مد میں اڑا دیا، جبکہ اصل مقصد کیلئے صرف 1.5ملین روپے لگائے گئے۔

آن لائن کو موصول ہونے والے دستاویز ات کے مطابق وزارت انسانی حقوق میں کروڑوں روپے کے غیر ضروری اخراجات کا انکشاف ہوا ہے۔ دستاویز کے مطابق وزارت انسانی حقوق میں بڑے بابوں نے ٹی اے ڈی اے کی مد میں 25لاکھ روپے سے زائد کی رقم حاصل کی۔

(جاری ہے)

جس میں سے سیکرٹری انسانی حقوق رابعہ جویری آغا نے 14لاکھ، 91ہزار سے زائد ، ڈائریکٹر جنرل (ڈولپمنٹ ) کامران اعظم خان نے 4لاکھ تیس ہزار اور ڈائریکٹر جنرل (آئی سی) محمد حسن منگی نے 8لاکھ 28ہزار سے زائد روپے ٹی اے ڈی اے کی مد میںحاصل کیے۔

دستاویزکے مطابق 33لاکھ 64ہزار روپے دفاتر کی تذئین وآرائش کیلئے خرچ کیے گئے۔ جبکہ بنیادی حقوق کی آگاہی مہم پر صرف 15 لاکھ روپے خرچ کیے گئے۔جبکہ ڈیڑھ کروڑ روپے ایڈوانس نکالے گئے جس کی تفصیلات درج نہیں کی گئی۔ انتہائی اہم ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزارت انسانی حقوق کی جانب سے حال ہی میں منعقد کی جانے والی بین الاقوامی کانفرنس پرتین کروڑ روپے خرچ کیے گئے ، جب کہ وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے صرف ایک کروڑ روپے کی منظور ی لی گئی تھی۔

ذرائع نے آن لائن کو بتایا کہ وزارت انسانی حقوق میں سیکرٹری ، جوائنٹ سیکرٹری اور ڈائریکٹر جنرل (ڈویلپمنٹ ) کامران اعظم خان سیاہ سفید کے مالک ہیں اور وسیع پیمانے پر خرد برد میں ملوث ہیں ۔ ذرائع نے دعو ی کیا ہے کہ وزارت انسانی حقو ق میں وسیع پیمانے پر فنڈز کی خوردبرد میں ملوث افراد کے خلاف تحقیقات کا معاملہ جلد نیب یا ایف آئی اے کو ارسال کیاجاسکتا ہے۔

واضع رہے کہ سابق وزیر مملکت عثمان ابراہیم انسانی حقوق کی بین الاقوامی کانفرنس کو ناکام قراردے چکے ہیں ، جس میں کشمیریوں کے بنیادی حقوق کے معاملے کو ایجنڈے میں شامل نہ کرنے پر تحقیقات کابھی جاری کیا گیا ہے۔ جبکہ وزارت خارجہ بھی انسانی حقوق کی بین الاقوامی کانفرنس کے دوران کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مسئلہ نہ اٹھانے پر ناپسندیدگی کا اظہار کرچکی ہے، ،۔ شمیم محمود۔

متعلقہ عنوان :