قرآن مجید میں عقیدہ توحید ،قیامت کا سب سے زیادہ ذکر ہوا ہے، حافظ ریاض نجفی

اتوار مئی 19:30

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) وفا ق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ ریاض حسین نجفی نے کہا ہے کہ قرآن مجید میں سب سے زیادہ ذکرعقیدہ توحید اور اس کے بعد قیامت کا ہوا ہے ۔ اگر ہمیں قیامت ، جذا اور سزاء کا یقین ہو تو اچھے بندے بن جائیں گے ۔ مگرہم میں وہ خوف خدا نہیں، جو بندہ مومن کی صفات میں سے ہوناچاہئے۔ علی مسجد میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انسان کسی عدالت میں پیش ہو تو اس کی پریشانی کی انتہا نہیں ہوتی جہاں جھوٹ اورجھوٹی گواہی بھی چل سکتی ہے ۔

لیکن اللہ کی عدالت میں انسان کے اعضاء بھی گواہی دینگے ، ویڈیو بھی ہوگی ، فرشتے بھی گواہی دے رہے ہونگے ،چمڑا بھی بولے گا، جبکہ چمڑا نہیں بولتا اور انسان اس پرحیران ہوگا توپھر چمڑا بولے گا میں تو تیرا نہیں تھا ۔

(جاری ہے)

مجھے تو امانت کے طور پر دیاگیا تھا ۔ ہاتھ پائوں گواہی دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ سورہ کہف میں کہا گیا ہے کہ انسان نے جو کام بھی کیا ہوگا وہ ویڈیوکی صورت میں پیش کیا جائے گا۔

اس وقت کون انکار کر سکتا ہی لہٰذاحساب منٹوں میں ہو جائے گا۔افسوسناک بات ہے کہ ہم قیامت پر تو یقین رکھتے ہیں۔لیکن شایدیقین نہیں کہ قیامت آنی بھی ہے کہ نہیں۔حافظ ریاض نجفی نے کہا کہ زبانی طور پرہم قیامت کو جھٹلاتے نہیں پرتوجہ کی جائے تو جھٹلانا بھی دو قسم کا ہوتاہے۔ ایک تولی یعنی نظریاتی اوردوسرا عملی ہوتاہے ۔ تولی( نظریاتی) وہ ہوتا ہے کہ انسان کہے میں نہیں مانتایہ جھٹلانا نظریاتی ہے مانتا ہے لیکن اسے کے مطابق چلتا نہیں۔

مانتا ہے سچ بولنا چاہیے لیکن بولتا نہیں،مانتا ہے کہ امانت میں خیانت بری بات ہے لیکن امانت میں خیانت کرتاہے۔امانت میں خیانت کرنا ایسا ہے کہ انسان خود اپنے آپ کے ساتھ بھی خیانت کرتاہے جیسے آنکھیں ہمیں امانت دی گئی ہیں توسوچو! کیا ہم اس امانت کے ساتھ خیانت تو نہیں کرتی زبان کو غلط کاموں میں استعمال تو نہیں کرتے

متعلقہ عنوان :