دس سال گزرنے کے باوجود اورکزئی ایجنسی کے علاقہ سنٹرل مشتی کے تباہ شدہ گھروں کا سروے نہ ہو سکا

اتوار مئی 21:20

ہنگو(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) اورکزئی ایجنسی کے علاقہ سنٹرل مشتی میں اب تک تباہ شدہ گھروں کا سروے نہ ہو سکا ،دس سال پہلے سنٹرل اورکزئی ایجنسی مشتی قبیلے کے گھر دہشت گردوں کی لہر اور دہشت گردوں کیخلاف آپریشن میں تباہ ہو گئے تھے ،مگر دس سال بعد بھی سروے نہیں ہوئے ہیں اس علاقے کے ایک استاد اکمل خان اورکزئی نے میڈیا کو فریاد کرتے ہوئے کہا کہ میرا گھر دس سال پہلے دہشت گردی کی لہر میں مکمل طور پر تباہ ہوا تھا اپنے علاقے کو واپس جانے کے بعد میرے اور میر ے بال بچوں اور خاندان کا رہنے کیلئے کوئی ٹھکانہ نہیں میرا خاندان دوسروں کے گھر میں رہنے پر مجبور ہے میں اپنی تنخواہ سے بال بچوں کا پیٹ پالتا ہوں اور بمشکل بیماریوں سمیت دیگر ضروریات پوری کرتا ہوں دوبارہ گھر بنانا میرے بس کی بات نہیں اس سلسلے میں میں نے پولیٹیکل ایجنٹ سمیت متعلقہ حاکم کو بار بار درخواستیں بھی دی ہیں مگر کوئی شنوائی نہ ہوئی ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ میں چیف آف آرمی سٹاف آئی جی ایف سی کور کمانڈر گورنر خیبر پختونخوا اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری فاٹا سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ میرے گھر اور علاقے میں دیگر تباہ شدہ گھروں کا سروے کرے اور چیف جسٹس آف پاکستان خصوصی نوٹس لے کر سوموٹو ایکشن لیں ۔