غیرملکی ملازمین کے جانے کی وجہ سے مقامی لوگوں کو بڑے نقصان کا سامنا

عمان کی پراپرٹی مارکیٹ گراوٹ کا شکار غیر ملکیوں کے عمان کو خیر باد کہنے کی وجہ سے پراپرٹی مارکیٹ کو بڑے پیمانے پر گراوٹ کا سامنا ، مکان مالکان نے حکومت سے غیر ملکی ملازمین کو ریاست میں ہی رکھنے کا مطالبہ کر دیا

پیر مئی 13:42

غیرملکی ملازمین کے جانے کی وجہ سے مقامی لوگوں کو بڑے نقصان کا سامنا
مسقط (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 مئی2018ء) عمان کا جائیداد سیکٹر اس وقت شدید نقصان میں جا رہا ہے جب سے عمان حکومت نے غیر ملکیوں کی جگہ عمانی شہریوں کو ملازمت پر بھرتی کرنے کی مہم کا آغاز کیا ہے ۔ مزید تفصیلات کے مطابق احمد الحمدانی اُن بہت سے مکان مالکان میں سے ایک ہے جو کہ گزشتہ سال سے شدید نقصان کا سامنا کر رہے ہیں ۔ احمد الحمدانی نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب اس کی عمارت کے صرف 30 فیصد فلیٹ کرائے پر ہیں جبکہ باقی کے تمام فلیٹس خالی پڑے ہوئے ہیں ۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ سال 12 مہینوں میں 96،000 ریال کا نقصان ہوا ہے ۔ مسقط کے ایک عمانی جاگیر دار نے مقامی میڈیا دی نیشنل نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ ہمیں اپنے ہم وطنوں کو ملازمت فراہم کرنے کے ضرورت ہے لیکن غیر ملکی شہری بھی ہماری ضرورت ہیں لہذا ہمیں انھیں بھی ریاست میں رکھنے کا بندوبست کرنا ہوگا ۔

(جاری ہے)

کیونکہ ریاست کے نجی اداروں کے لیے غیر ملکی ملازمین کی اشد ضرورت ہے ۔

جاگیر دار نے مزید کہا کہ اسنے اپنی عمارت کے فلیٹس 2011 میں کرائے پر دینا شروع کیے تھے جو کہ مارچ 2017 تک پوری طرح سے بھر چکے تھے لیکن اُسکے بعد عمان حکومت نے ریاست میں نجی اداروں میں غیر ملکی ملازمین کی جگہ عمانی شہریوں کو بھرتی کرنے کا اعلامیہ جاری کر دیا جسکے بعد سے اُسکی عمارت کے 70 فیصد فلیٹس خالی ہو چکے ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عمان میں کرائے پر دی جانے والی عمارتوں میں 70 فیصد کرایہ دار غیر ملکی ہوتے تھے جوکہ اب خالی پڑی ہیں کیونکہ عمان میں غیر ملکیوں کے لیے روزگار کے مواقع ختم ہونے لگے ہیں ۔

عمان کی انسانی وسائل کی وزارت نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ عمان کو گزشتہ 40 سالوں میں پہلی دفعہ ملازمتوں کے بدترین بحران 17 فیصد کا سامنا ہے ۔ ریاست نے عمانی شہریوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے گزشتہ سال نجی اداروں کو 25،000 ملازمتیں پیدا کرنے کا حکم جاری کیا تھا ۔ ایک اور جاگیر دار نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر غیر ملکی ملازمین کو اسی طرح سے ملازمتوں سے نکالا جاتا رہا اور فلیٹس اسی طرح خالی ہوتے رہے تو ہمارا دیوالیہ ہو جائے گا۔

کیونکہ انہوں نے بینکوں سے عمارتوں کی تعمیر کے لیے بھاری قرضے لیے ہوئے ہیں ۔ جنہیں وہ ان غیر ملکی ملازمین کی وجہ سے ہی واپس کر پا رہے تھے اور اب اگر فلیٹس ہی خالی ہو جائیں گے تو وہ کیسے بینکوں کی قرضے اتاریں گے ، بصورت دیگر انھیں شدید نقصان کا سامنا ہونے کی وجہ سے عمارتوں کوکوڑیوں کے بھاوبیچنا پڑے گا ۔ عمان کے مرکزی بینک کے ترجمان نے مقامی میڈیا نیشنل نیوز کو بتایا ہے کہ عمان میں کم سے کم 670 مکان مالکان مالی مصیبت میں ہیں کیونکہ انھیں بینکوں سے لیے گئے قرض اپنی جیب سے ادا کرنا پڑ رہے ہیں ۔

مارچ 2016 سے مارچ 2018 کے درمیان میں تقریباً 115,000 غیر ملکی ملازمین عمانائزیشن مہم کے تحت ریاست چھوڑ کر جا چکے ہیں ۔ اسی وجہ سے پراپرٹی کے ماہرین کو ڈر ہے کہ ریاست کے تمام پراپرٹی ڈیلروں کا بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔