اپوزیشن کا نواز شریف کے انٹر ویو پرشدید احتجاج ، حکومتی ، اپوزیشن بنچوں کی مخالفانہ نعرے بازی کیوجہ سے ایوان مچھلی منڈی بنا رہا

وزیر خزانہ عائشہ غوث پاشا نے شور شرابے کے دوران ہی خطاب ،ضمنی بجٹ کا گوشوارہ اور نظر ثانی شدہ تخمینہ جات ایوان میں پیش کئے

پیر مئی 23:10

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 مئی2018ء) پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن کی جانب سے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کے انٹر ویو پرشدید احتجاج کیا گیا ،اپوزیشن اور حکومتی بنچوں کی مخالفانہ نعرے بازی کی وجہ سے ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرتا رہا اور وزیر خزانہ عائشہ غوث پاشا نے شور شرابے کے دوران ہی خطاب ،ضمنی بجٹ کا گوشوارہ اور نظر ثانی شدہ تخمینہ جات ایوان میں پیش کئے ۔

پنجاب اسمبلی کا اجلاس اپنے مقررہ وقت 3بجے کی بجائے 5بجکر 10منٹ پر اسپیکر رانا محمد اقبال خان کی صدارت میں شروع ہوا ۔ اجلاس کے آغا زپر ہی قائد حزب اختلاف میاں محمود الرشید نے نقطہ اعتراض پر بات کرنے کی اجازت طلب کی جس پر اسپیکر نے انہیں کہا کہ مجھے اجلاس کی کارروائی شروع کر لینے دیں ۔

(جاری ہے)

پینل آف چیئرمین کے اعلان کے بعد اسپیکر نے وزیر خزانہ عائشہ غوث پاشا کو مخاطب کیا تاہم اسی دوران میاں محمود الرشید نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے کہا تھاکہ آپ کو بات کرنے کا موقع دیتا ہوں جس پر اسپیکر نے انہیں کہا کہ چلیں آپ بات کر لیں ۔

محمود الرشید نے کہا کہ نواز شریف کا انٹریو قومی ایشو ہے اور پورے پاکستان کے اندر اس پر اضطراب پایا جاتا ہے ۔ اسی معاملے پر نیشنل سکیورٹی کونسل کا اجلاس بھی ہوا ہے ۔ ہم نے اسمبلی سیکرٹریٹ میں قرارداد جمع کرائی ہے ہمیں آئوٹ آف ٹرن پیش کرنے کی اجازت دی جائے ۔ تاہم اسی دوران حکومتی بنچوں سے خواتین نے جھوٹے جھوٹے کے نعرے لگانے شروع کر دئیے جس کے جواب میں اپوزیشن اراکین نے بھی نعرے بازی شروع کر دی ۔

اپوزیشن اراکین اپنی نشستوں سے اٹھ کر اسپیکر ڈائس کے سامنے جمع ہو گئے اور اس دوران ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر ہوا میں اچھالتے رہے ۔ اپوزیشن اراکین مودی کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے ،گرتی ہوئی دیواروں کو ایک دھکا اور دو ، مودی کے پیاروں کو ایک دھکا اور دو ، پھانسی دو ، پھانسی دو جبکہ حکومتی بنچوں سے شیر ، شیر اک واری فیر، وزیر اعظم نواز شریف ، آیا آیا شیر آیا ، چرسی ، چرسی کے نعرے لگا ئے جاتے رہے ۔

اسی دوران اسپیکر نے وزیر خزانہ عائشہ غوث پاشا کو اظہار خیال کرنے کا کہا اور انہوں نے شور شرابے کے دوران ہی اپنی حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے اپنا خطاب مکمل کرنے کے ساتھ ضمنی بجٹ کا گوشوارہ اور نظر ثانی شدہ تخمینہ جات برائے مالی سال 2017-18پیش کیا جس کے بعد اسپیکر نے اجلاس آج صبح دس بجے تک کیلئے ملتوی کر دیا ۔