طلباء کو زیور تعلیم سے آراستہ کر کے ملک و قوم کو درپیش چیلنجز کا حل نکالا جا سکتا ہے۔ وائس چانسلر ہزارہ یونیورسٹی

منگل مئی 20:53

مانسہرہ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 مئی2018ء) ہزارہ یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سید منظور حسین شاہ نے کہا ہے کہ نوجوان طلباء نے اپنے آپ کو تعلیم و تحقیق کے زیور سے آراستہ کرنا ہو گا تاکہ وہ حاصل کردہ علم اور مہارت کے ذریعہ ملک و قوم کو درپیش چیلنجز کا حل نکال سکیں۔ وہ منگل کو گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج ایبٹ آباد میں ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

ڈاکٹر منظور حسین شاہ نے طلباء و طالبات کو مخاطب کہا کہ آپ نے اپنی تعلیم کی بدولت اپنے مستقبل کی راہیں متعین کرنی ہیں تاکہ پاکستان کو ایسے ہنر مند نوجوان میسر آسکیں جو ملک و قوم کو ترقی کی نئی راہوں پر ڈال کر اپنے والدین کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کریں اور قوموں کی برادری میں پاکستان کو پروقار مقام دلا سکیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے مزید کہا کہ طلباء و طالبات اس کالج کے سفیر ہیں اور آپ نے اپنے کردار سے نہ صرف اس کالج کا بلکہ اس علاقہ اور اپنے والدین کا نام تعلیم کے حوالہ سے روشن کرنا ہے۔

پرو وائس چانسلر نے فارغ التحصیل طلبا اور ان کے والدین کو مبارکباد دی اور اس امید کا اظہار کیا کہ یہ نوجوان طلباء عملی طور پر پاکستان کی تعمیر و ترقی اور فلاح کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کریں گے۔ ڈاکٹر منظور حسین شاہ نے کہا کہ ہزارہ یونیورسٹی تعلیم، تحقیق اور تخلیق کے میدان میں شاندار خدمات سر انجام دے رہی ہے اور یونیورسٹی کی چار فیکلٹیز میں 36 سے زائد جدید تعلیمی و تحقیقی شعبہ جات نوجوان طلباء و طالبات کو عصر حاضر کے تقاضوں سے مطابقت رکھنے والے علوم سے آراستہ کیا جا رہا ہے۔

پرو وائس چانسلر نے کہا کہ ہم ایسے اقدامات اٹھا رہے ہیں کہ تعلیم و تحقیق میں مزید بہتری اور وسعت آئے اور اس مقصد کیلئے جلد ہی تحقیقی و تکنیکی پیداواری مارکیٹ کو مد نظر رکھتے ہوئے نئے تعلیمی شعبوں کا اجراء کیا جا رہا ہے تاکہ اس وقت دنیا میں رائج تحقیقی حوالوں سے ہونے والی سرگرمیوں کے بارے میں طلباء میں مطابقت پیدا کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ تکنیکی و تحقیقاتی اعتبار سے نئے شعبوں کے اجراء سے نہ صرف صوبہ خیبر پختونخوا بلکہ ملک بھر کے نوجوان سکالرز مستفید ہوں گے اور انہیں تحقیقی و تخلیقی سرگرمیوں کیلئے جدید ڈیپارٹمنٹس کی سہولیات میسر آ جائیں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ تعمیراتی حوالہ سے بھی یونیورسٹی اہم مرحلہ سے گذر رہی ہے، اکیڈیمک بلاکس کا منصوبہ 30 جون 2018ء تک مکمل کر لیا جائے گا جس کیلئے ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے 66 کروڑ روپے سے زائد رقم فراہم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہزارہ یونیورسٹی اقتصادی راہدری پر واقع ہونے کی بدولت آنے والے وقتوں میں تعلیم، تحقیق اور تخلیق کے میدان میں جلد اہم مقام حاصل کر لے گی۔ تقریب میں ہزارہ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے ماہرین تعلیم، معززین، کالج کے پرنسپل و اساتذہ، ڈگری وصول کرنے والے طلباء و طالبات، ان کے والدین اور عزیز و اقارب نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

متعلقہ عنوان :