کراچی، یونیورسٹی میں پاکستان کی جدید ترین سیروبائیولوجی لیب قائم کی جارہی ہے، پرو فیسر ڈاکٹر محمد سعید قریشی

آلات در آمد کیے جارہے ہیں، آئیندہ تین سے چھ ماہ میں اس کا قیام عمل میں آجائے گا، وائس چانسلر ڈائو یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز

منگل مئی 21:43

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 مئی2018ء) ڈائو یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پرو فیسر ڈاکٹر محمد سعید قریشی نے کہا ہے کہ یونیورسٹی میں پاکستان کی جدید ترین سیروبائیولوجی لیب قائم کی جارہی ہے، اسکے لیے آلات در آمد کیے جارہے ہیں، آئیندہ تین سے چھ ماہ میں اس کا قیام عمل میں آجائے گا۔جبکہ ہمارے اوجھا کیمپس سے متصل پاکستان کونسل آف سائنٹیٖفک ریسرچ لیباٹریرز "پی سی ایس آئی آر"کے چئیرمین نے ہمارے طلبہ کو اپنی لیباٹریز سے استفادے کی اجازت دے دی ہے، یہ بات انہوں نے یونیورسٹی کے ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہال میں انسٹیٹیوٹ آف بائیو میڈیکل سائنسز کے دس سال مکمل ہونے کی خوشی میں تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب سے کرتے ہوئے کہی۔

اس موقع پر پرو وائس چانسلرز پروفیسر ڈاکٹر محمد مسرور، پروفیسر ڈاکٹر زرناز واحد۔

(جاری ہے)

پروفیسر ڈاکٹر سنبل شمیم، پروفیسر ڈاکٹر شاہین شرافت، پروفیسر ڈاکٹرشجاع فرخ، ڈاکٹر شوکت علی، پروفیسر ثروت جبین، ڈاکٹر محمد سعیدسمیت طلباء کی بڑی تعداد موجود تھی۔۔ڈاکٹر محمد سعید قریشی نے کہا کہ سیرو بائیو لیب کے قیام سے ملک میں خون کی بیماریوں کی تشخیص اور دوائوں کی تیاری میں مدد ملے گی،ڈائو ریسرچ انسٹیٹیوٹ آف بائیو ٹیکنالوجی اینڈ بائیو میڈیکل سائنسز "ڈی آر آئی بی بی ایس" کا قیام بھی عمل میں آچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دس سال پہلے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل کالج "جے پی ایم سی "واحد ادارہ تھا، جو پی ایچ ڈی تک تعلیم دے رہا تھا، اسکے بعد ڈائو یونیورسٹی میں بی آئی ایم ایس کا قیام عمل میں لایا گیا،دس برس میں اس ادارے نے پاکستان میں تعلیم کی ترقی کے لیے بہت اہم کردارادا کیا ہے۔اس موقع پر انسٹیٹیوٹ کی ڈائریکٹر پروفیسر زیبا حق نے کہا کہ انسٹیٹیو آف بائیو میڈیکل سائنسزسے 8 پی ایچ ڈی مکمل جبکہ 3جلد مکمل ہوکرِ، دس برس میں پی ایچ ڈیز کی تعداد گیارہ ہوجائیگی، جبکہ ایم فل کرنے والوں کی تعداد 63 ہوگئی ہے، جبکہ اس وقت 195ایم فل اور پی ایچ ڈیززجسٹرڈ ہیں،انہوں نے کہاکوالٹی ایجوکیشن کے ذریعے ہی ملک میں تعلیمی انقلاب لایا جاسکتاہے، تقریب سے ڈاکٹر جہاں آرا نے بھی خطاب کیا،جبکہ سابق ڈائریکٹر مسعود انور قریشی اور طلعت مرزا کے پیغامات بھی پڑھ کر سنائے گئے۔

بعد ازاں ایک عشرے کے دوران مختلف شعبہ جات میں نمایاں کارکردگی کے حامل افراد کو شیلڈ اور اسناد بھی دی گئیں ۔