فلسطینیوں کے قتل عام کی آزادانہ بین الاقوامی تحقیقات کرائی جائے، عرب وزرائے خارجہ

جمعہ مئی 10:10

قاہرہ ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 مئی2018ء) سعودی وزیرخارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ امریکا نے اپنا سفارتخانہ القدس منتقل کر کے بین الاقوامی قرار دادوں کی خلاف ورزی کی ہے۔عرب لیگ جنرل سیکریٹریٹ میں سعودی عرب کی زیر صدارت عرب وزرائے خارجہ کے ہنگامی اجلاس سے خطاب میں سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیظ نے تل ابیب سے القدس امریکی سفارتخانہ منتقل کرنے کے فیصلے کو پوری قوت سے مسترد کر دیا۔

انھوں نے اس امر پر زور دیا کہ حالیہ ایام کے دوران قابض اسرائیلی حکام نے غزہ کے علاقے میں جو مجرمانہ حملے کئے ہیں ان کی بابت خود مختار بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن مقرر کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ القدس سفارتکاروں کی منتقلی سے امن عمل کو نقصان پہنچے گا۔ بین الاقوامی نظام کی قانونی اور اخلاقی حیثیت سبوتاز ہو گی۔

(جاری ہے)

انہو ں نے مختلف ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکی اقدام کی مکمل مخالفت کا موقف برقرار رکھیں۔

ابو الغیط نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینیوں کو جلد از جلد تحفظ فراہم کرے اور اندھا دھند قتل و غارتگری مچانے والے اسرائیلی نظام پر بندش لگائے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے کہا کہ مسئلہ فلسطین سعودی عرب سمیت پوری عرب دنیا کا اولین مسئلہ تھا ، ہے اور رہے گا۔ سعودی عرب جائز حقوق کی بازیابی کے سلسلے میں فلسطینی عوام کی مدد جاری رکھے گا۔انہو ںنے فلسطینی شہریوں پر اسرائیلی فوج کے مظالم کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ القدس سے متعلق امریکی فیصلہ غیر قانونی او ربے معنی ہے۔ انھوں نے فلسطینیوں کے قتل عام کی آزادانہ بین الاقوامی تحقیقات کرانے کی اپیل بھی کی۔