تین دہائیوں سے شام میں رہنے والے سعودی شہری کو اپنی شہریت ثابت کرنا محال ہو گیا

27 سال سے شام میں رہنے والے سعودی شہری نے اپنی سعودی شہریت گنوا دی

Sadia Abbas سعدیہ عباس جمعہ مئی 14:20

تین دہائیوں سے شام میں رہنے والے سعودی شہری کو اپنی شہریت ثابت کرنا ..
ریاض (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 مئی2018ء) شام میں27 سال سے رہنے والا سعودی شہری اپنی شہریت ثابت کرنے میں ناکام ہو گیا ۔ ۔ مزید تفصیلات کے مطابق سعودی عرب کا ایک شہری گزشتہ 27 سال سے شام میں رہائش پذیر تھا اور اب جب وہ واپس سعودی عرب آنا چاہ رہا ہے تو اسکے پاس اپنے آپ کو سعودی شہری ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت نہیں ہے ۔ سعودی گزٹ کی رپورٹس کے مطابق کریم الکویبی ال روالی گزشتہ تین صدیوں سے سعودی ریاست سے باہر مقیم تھا اور اب اسکے پاس خود کی سعودی شہریت ثابت کرنے کے لیے کوئی دستاویزات موجود نہیں ہیں ۔

مقامی ذرائع الحیات نیوز سے بات کرتے ہوئے روالی کا کہنا تھا کہ وہ 27 سال کے بعد آج سے سات سال پہلے شام سے واپس سعودی عرب رہنے کے لیے آیا لیکن اسے ریاست میں رہنے کی اجازت نہیں دی گئی اور تب سے وہ اور اسکے خاندان کے 11 افراد اردن میں مقیم ہیں۔

(جاری ہے)

روالی نے بتایا کہ وہ شام میں اپنے پرانے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کے ذریعے گیا تھا جنکی معیاد ختم ہو گئی ہے اور وہ دوبارہ ان کی تجدید نہیں کروا پایا تھا ۔

تاہم وہ شام سے اردن گیا اور وہاں سے ریاست میں داخل ہوا لیکن وہاں سے وہ اپنے شناختی کارڈ کی تجدید نہ کروا پایا ۔ روالی کا کہنا ہے کہ اسنے ہمت نہ ہاری اور اپنی شکایت القریہ کے سول امور کے محکمے ، اسکے بعد الجوف اور پھر ریاض میں جمع کروائی لیکن سب بے کار گیا ۔ روالی نے کہا کہ میرے کاغذات ابھی بھی سول امور کے محکمے میں ایسے ہی پڑے ہیں اور سعودی ریاست ابھی بھی مجھے ریاست کا شہری ماننے سے انکاری ہے ۔

میرا خاندان انتہائی برے حال میں زندگی گزار رہا ہے اور ہمارے پاس اپنے آپ کو سعودی شہری ثابت کرنے کے لیے کوئی دستاویزات موجود نہیں ہیں ۔ ال روالی نے کہا کہ اسکے پاس کچھ کمزور سی دستاویزات ہیں جس سے یہ ثابت ہو سکتا ہے کہ وہ ایک سعودی شہری ہے۔ روالی نے کہا کہ اسکے پاس قرض لینے کی دستاویزات کی ایک کاپی ہے جو اسنے سعودی ریئل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن سے لیا تھا ، ایک گھر کے کاغذات ہیں جو کہ اسنے القریہ میں بنایا تھا ، سعودی کمرشل رجسٹریشن کی ایک کاپی اور سعودی عرب کے ایک قبیلے کے چیف کے دستخط شدہ کاغذات جو کہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ ایک سعودی شہری ہے نہ کہ شامی شہری ہے ۔

70 سالہ روالی سڑوک اور نظر کی کمزوری کی بیماری کے ساتھ دیگر بیماریوں میں مبتلا ہے اور اس کہنا ہے کہ کیا ایسا ممکن ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر ریاست میں داخل ہوسکے اور وہ تحقیقات کمیٹی سے سوال کر سکے کہ کیا وہ سعودی شہری ہے یا نہیں ۔ اس کے علاوہ روالی کو شام میں بھی کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ دمشق ، بیروت اور امان کے سفارت خانوں نے بھی اسے سعودی شہری کی دستاویزات کی بنیاد پر ریاست میں داخل نہیں ہونے دیا اور تو اور دو ماہ پہلے اسنے شام سے سعودی عرب جانے کی کوشش کی تو سفارت خانے نے یہ کہہ کر بیروت میں اسکے کاغذات واپس بھیج دئیے کہ وہ سعودی شہری نہیں ہے اور اسکی دستاویزات بھی جعلی ہیں۔

اس کے بعد روالی نے الہدایۃ بارڈ پوائنٹ سے ریاست میں داخل ہونے کی کوشش کی تو اسکا پرانا پاسپورٹ تحویل میں لے لیا گیا اور جب القریہ سول دفاع محکمے سے اسنے رابطہ کیا تو اسے کہا گیا کہ اسکی دستاویزات سکاسکا میں ہیں ۔ مدینہ میں سول دفاع محکمے کے ترجمان محمد ال جاسر نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں پتہ چلاہے کہ روالی کی شناختی دستاویزات جعلی ہیں ۔ تاہم وہ اس سارے واقعے کی تحقیق کر رہے ہیں ۔