منہاج یونیورسٹی انتظامیہ کا طالبات کے ساتھ ناروا سلوک معمول بن گیا ہے، والدین

اتوار مئی 16:50

لاہور۔20 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 مئی2018ء) منہاج یونیورسٹی انتظامیہ کا طالبات کے ساتھ ناروا سلوک معمول بن گیا ، والدین کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی میں پہلے نہیں، اب ہماری بچیاں غیر محفو ظ ہوتی جا رہی ہیں، تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر منہاج یونیورسٹی کے گرلز ہوسٹل کی ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد منہاج یونیورسٹی پر بہت سارے سوالات اُٹھنا شروع ہو گئے ہیں، وائرل ہونے والی ویڈیو میں صاف نظر آ رہا ہے کہ کس طرح گرلز ہوسٹل کے اندر جا کر ایک شخص لڑکیوں کو ڈرا دھمکا رہا ہے حالانکہ دیگر پبلک اور پرئیوایٹ یونیورسٹیز کے تمام گرلز ہاسٹلز میں خواتین ہاسٹلز وارڈنز ہوتی ہیں اور وہی وارڈنز لڑکیوں کے مسائل سن کر اُن کو حل کروانے میں اپنا کردار اداکرتی ہیں جبکہ کسی میل کو کسی بھی صورت گرلز ہاسٹل میں جانے کی اجازت نہیں ہوتی لیکن لاہور میںواحد منہاج یونیورسٹی ہے جس میں خاتون وارڈن ہونے کے باوجودیونیورسٹی کا کوئی میل گرلز ہاسٹل میں جا کر لڑکیوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے معصوم لڑکیوں کو دھمکیاں بھی لگاتا ہے، منہاج یونیورسٹی کے گرلزہاسٹل کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اکثر والدین جن کی بچیاں منہاج یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں وہ اب اپنی بچیوں کو غیر محفوظ سمجھنے لگے ہیں۔

متعلقہ عنوان :