دمشق کے جنوب میں شامی حکومت اور داعش کے درمیان معاہدہ

فائر بندی سے داعش کے جنگجوؤں کے انخلاء کی راہ ہمواراس معاہدے پر عمل درآمد کیا جا سکے گا،شامی آبزرویٹری

اتوار مئی 17:30

دمشق(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 مئی2018ء) شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد نے بتایا ہے کہ دارالحکومت دمشق کے نزدیک اپوزیشن کے آخری ٹھکانے سے داعش تنظیم کے جنگجوؤں کے ایک گروپ کو نکال لیا گیا ہے۔اس سے قبل المرصد نے اعلان کیا تھا کہ شامی حکومت کی فورسز اور داعش کے درمیان فائر بندی کا معاہدہ ہو گیا ہے۔ یہ معاہدہ ہفتے کے روز سے دمشق کے جنوب میں نافذ العمل ہوا تا کہ علاقے سے دہشت گردوں کو باہر لانے کے حوالے سے سمجھوتے کی تیاری کی جا سکے۔

(جاری ہے)

عرب ٹی وی کے مطابق المرصد کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمن نے کہاکہ فائر بندی سے داعش کے جنگجوؤں کے انخلاء کی راہ ہموار ہو گی اور اس معاہدے پر عمل درامد کیا جا سکے گا جو شامی حکومت کی فورسز کے حملے سے قبل طے پایا تھا۔دوسری جانب شامی حکومت نے داعش تنظیم کے ساتھ کسی بھی معاہدے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سلسلے میں جو کچھ پھیلایا جا رہا ہے وہ درست نہیں۔شامی حکومت کی فورسز نے تقریبا ایک ماہ قبل ایک وسیع زمینی آپریشن شروع کیا تھا۔ اس کا مقصد شامی دارالحکومت کے جنوب میں داعش تنظیم کے زیر قبضہ علاقے الحجر الاسود کو نشانہ بنانا تھا۔

متعلقہ عنوان :