انتہاپسند ہندوؤں نےگائےذبیحہ کےالزام میں نوجوان کوقتل کردیا

مدھیہ پردیش میں2 نوجوانوں پرہندوؤں کا تشدد، ایک نوجوان قتل،دوسرا شدید زخمی،پولیس نے زخمی نوجوان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔ میڈیا رپورٹس

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ اتوار مئی 18:44

انتہاپسند ہندوؤں نےگائےذبیحہ کےالزام میں نوجوان کوقتل کردیا
مدھیہ پردیش(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔20 مئی 2018ء) : بھارت میں انتہاپسند ہندوؤں نے گائے ذبیحہ کے الزام میں تشدد کرکے ایک مسلمان کو قتل اور دوسرے کو زخمی کر دیا، واقعہ بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں پیش آیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت میں مذہبی انتہا پسندی عروج پر پہنچ گئی ہے۔ بھارت میں مسلمانوں کو کیڑے مکوڑے سمجھا جا رہا ہے جبکہ ان سے اقلیت کے حقوق بھی چھینے جا رہے ہیں۔

مسلمانوں کیلئے مذہبی فرائض پورا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ جس کی متعدد بار دنیا عملی نمونے دیکھ چکی ہے۔ اسی طرح کا ایک واقعہ بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع سانتہ میں پیش آیا ہے۔ جہاں انتہا پسند ہندوؤں نے گائے ذبیحہ کے الزام میں دومسلمان جوانوں پر حملہ کردیا۔ شکیل اور ریاض خان کو گائے ذبیحہ کے الزام میں لاٹھیوں اور پتھروں سے دونوں نوجوانوں کو شدید زخمی کردیا گیا۔

(جاری ہے)

وہاں پرموجود لوگوں نے دونوں جوانوں کی انتہا پسندوں سے جان بخشی کروائی۔ زخمی افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں پر ایک نوجوان شکیل کومے میں چلا گیا ہے۔ جبکہ دوسرا جوان ریاض خان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا ہے۔ پولیس نے واقعے میں ملوث 4افراد کیخلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔ گائے ذبیحہ کے الزام میں زخمی نوجوان شکیل پر بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں نوجوان اپنے مویشیوں کے ساتھ گاؤں واپس آرہے تھے کہ انتہا پسندوں نے جوانوں کو تشدد کا نشانہ بنانا شروع کردیا۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے جائے وقوعہ سے کٹے ہوئے بیل کا گوشت بھی قبضے میں لے لیا ہے۔واضح رہے بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے کے ساتھ ہی بھارتی ریاست مدھیہ پردیش،ریاست آسام اورگجرات سمیت متعدد شہروں میں مسلمانوں کو گائے ذبیحہ کے الزام میں قتل اور تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوگیا ہے۔