جی بی آرڈر 2018 ء ناکافی حل، سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں آئینی صوبہ کا باضابطہ اعلان کیا جائے، ساجد نقوی

سیاسی جماعتوں کو اپنے منشور میں آئین کی بالادستی، قانون کی عملداری، انصاف و میرٹ کا یکساں حصول اور بنیادی انسانی حقوق وشہری آزادیوں کا تحفظ شامل کرنا ہوگا، جمہوریت کا تسلسل ملکی استحکام کیلئے ضروری ہے، قائد ملت جعفریہ پاکستان

پیر مئی 17:57

راولپنڈی /اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مئی2018ء) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے گلگت بلتستان عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلے کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاق باضابطہ صوبہ کا اعلان کرے، آرڈر 2018ء عوامی بنیادی حقوق کے تحفظ اور مسائل و مشکلات کیلئے ناکافی حل ہے، خطہ کو دیگر صوبوں کی طرح سینیٹ اور قومی اسمبلی میں بھی نمائندگی ملنی چاہیے، تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے منشور میں آئین کی بالادستی، قانون کی عملداری، انصاف و میرٹ کا یکساں حصول اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کو لازماً شامل کریں، جمہوریت کا تسلسل ملکی استحکام کیلئے ضروری ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوںنے گلگت بلتستان کے مختلف وفود اور مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں سے ملاقاتوں کے دوران کیا۔

(جاری ہے)

علامہ سید ساجد علی نقوی نے گلگت بلتستان کے عمائدین سے اپنی گفتگو میں کہاکہ گلگت بلتستان کو آئینی صوبہ قرار دینے کا مطالبہ ہم ایک عرصہ سے کررہے ہیں کیونکہ خطہ کی عوام کو باقاعدہ صوبائی شناخت دے کر ہی ان کے حقوق کا تحفظ کیا جاسکتاہے۔

انہو ں نے زور دیتے ہوئے کہاکہ جی بی کے مستقبل کا فیصلہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں اور عوامی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے، حالیہ گلگت بلتستان آرڈر 2018ء میں عوامی مشکلات، مسائل اور بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے ناکافی حل پیش کیاگیاہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ گلگت بلتستان کو مکمل آئینی تحفظ فراہم کیا جائے اور دیگر صوبوں کی طرح سینیٹ اور قومی اسمبلی میں باقاعدہ نمائندگی دے کر وفاق پاکستان کا حصہ ڈکلیئر کیا جائے ۔

مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ سید ساجد علی نقوی کا کہنا تھا کہ انتخابات کی آمد آمد ہے، موجودہ وفاقی و صوبائی حکومتیں اپنی آئینی مدت پوری کرنے جارہی ہیں اور انتخابات کے شیڈول کا اعلان بھی متوقع ہے جوکہ خوش آئند ہے کیونکہ جمہوریت کا تسلسل ملکی استحکام کیلئے ضروری ہے۔ انہوںنے کہاکہ انتخابات سے قبل تمام سیاسی جماعتیں اپنے اپنے منشور اور پلان کا اعلان کررہی ہیں ، ہم سمجھتے ہیں جن جماعتوں کے منشور میں رول آف لاء،بنیادی شہری حقوق کا تحفظ شامل نہیں وہ نامکمل منشور ہیںکیونکہ ایک عرصہ سے ملک میں آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کا فقدان رہا جس کی وجہ سے بنیادی انسانی حقوق اور شہری آزادیاں پامال ہوئی ہیں، انصاف کیلئے لوگ دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں ۔

انہوںنے زور دیتے ہوئے کہاکہ تمام سیاسی قوتیں اگر ملک میں صحیح معنوں میں جمہوریت کی خواہاں ہیں تو انہیں اپنے منشور میں آئین کی بالادستی، قانون کی عملداری، انصاف و میرٹ کا یکساں حصول اور بنیادی انسانی حقوق و شہری آزادیوں کے تحفظ کو شامل کرنا ہوگا۔