قومی کرکٹ ٹیم کا نیا کوچ لگانے کا فیصلہ

پاکستان کرکٹ ٹیم کے نئے فیلڈنگ کوچ کیلئے تین ناموں پر غور جاری، گرانٹ لوڈن ، جیمز فوسٹر اورڈین ووڈ فورڈ نئے فیلڈنگ کوچ کیلئے امیدوار ،بورڈ نے نئے فیلڈنگ کوچ کا اختیار مکی آرتھر کودیدیا

پیر مئی 18:08

قومی کرکٹ ٹیم کا نیا کوچ لگانے کا فیصلہ
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مئی2018ء) پاکستان کرکٹ بورڈ ((پی سی بی )نے ٹیم کے نئے فیلڈنگ کوچ کے حوالے سے 3ناموں پر غور کررہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ ہیڈ کوچ مکی آرتھر کی مشاورت سے کیا جائے گا۔پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ٹرینر گرانٹ لوڈن ،انگلینڈ کے سابق وکٹ کیپر جیمز فوسٹر اور اسلام آباد یونائیٹیڈ کے آسٹریلوی فیلڈنگ کوچ ڈین ووڈ فورڈ نئے فیلڈنگ کوچ کیلئے امیدوار ہیں۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے نئے فیلڈنگ کوچ کا اختیار پاکستان کرکٹ بورڈ نے ہیڈ کوچ مکی آرتھر کو سونپ دیا ہے۔مکی آرتھر آسٹریلوی اسٹیو رکسن کو فیلڈنگ کوچ کی حیثیت سے لائے تھے لیکن اسٹیو رکس نے ذاتی وجوہ کی بنا پر اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔13جون کو ایڈن برا میں اسکاٹ لینڈ کے خلاف دوسرے ٹی ٹوئینٹی انٹر نیشنل کے بعد اسٹیو رکسن باضابطہ اپنی ذمے داریوں سے سبکدوش ہوجائیں گے۔

(جاری ہے)

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئر مین نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ ایک سال بعد ہونا ہے ہم نئے کوچ کا تقرر مکی آرتھر کی مشاورت سے کریں گے۔جولائی میں زمبابوے کے دورے سے قبل نئے فیلڈنگ کوچ کا تقرر کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ زمبابوے سے تعلق رکھنے والے گرانٹ لوڈن بنیادی طور پر ٹرینر ہیں، وہ اس سے قبل بھی پاکستان ٹیم کے فیلڈنگ کوچ تھے لیکن مکی آرتھر نے ان پر اسٹیو رکسن کو ترجیح دی تھی۔

گرانٹ لوڈن کو مکی آرتھر ٹرینر کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔اس لئے ان کے ڈبل جاب کے امکانات کم ہیں۔جیمز فوسٹر نے انگلینڈ کی جانب سے سات ٹیسٹ، گیارہ ون ڈے انٹر نیشنل اور پانچ ٹی ٹوئینٹی انٹر نیشنل میچ کھیلے ہیں۔سابق وکٹ کیپر کا تعلق ڈرہم کاونٹی سے ہے،ہفتے کو جیمز فوسٹر نے لیسٹر میں پاکستانی ٹیم کے ساتھ فیلڈنگ سیشن سپروائز کیا۔مکی آرتھر کی درخواست پر وہ خاص طور پر لیسٹر آئے اور پاکستانی ٹیم کے فیلڈنگ سیشن کی نگرانی کی۔

نئے فیلڈنگ کوچ کیلئے تیسرا نام آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے ڈین ووڈ فورڈ کا ہے۔وہ اس وقت پاکستان سپر لیگ کی چیمپین اسلام آباد یونائیٹیڈ سے وابستہ ہیں۔اسلام آباد کی ٹیم میں وہ ڈین جونز کی نگرانی میں کام کررہے ہیں۔ڈین ووڈ فورڈ کا نام اس وقت بھی سامنے آیا تھا جب پاکستان نے اسٹیو رکن کا تقرر کیا تھا۔