عیدگاہ مارچ کو ناکام بنانے کیلئے پابندیوں کے نفاز اور حریت رہنمائوں کی نظربندی کی شدید مذمت

یہ کٹھ پتلی انتظامیہ کا اعتراف شکست ہے، مشترکہ حریت قیادت

منگل مئی 11:30

سرینگر ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیرمیں سید علی گیلانی،، میرواعظ محمد عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے کہا ہے کہ عید گاہ مارچ کو روکنے کیلئے پابندیوں کا نفاذ اور حریت قائدین کو گھروں اور تھانوں میں نظربند رکھنے کی شدیدمذمت کرتے ہوئے اسے کٹھ پتلی انتظامیہ کی طر ف سے شکست کا اعتراف ہے۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سید علی گیلانی،، میرواعظ محمد عمر فاروق اور محمد یاسین ملک جنہیں عید گاہ چلو مارچ کی قیادت سے روکنے کیلئے انتظامیہ نے نظربند کر رکھا تھا نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہاہے کہ کٹھ پتلی انتظامیہ سیاسی سطح پر حریت قیادت کو مقابلہ کرنے میں ناکام ہو چکی ہے ۔ انہوںنے افسوس ظاہر کیاکہ انتظامیہ اپنے جابرانہ اور عوام دشمن پالیسیوں کے ذریعے مسلسل گزشتہ 8 سال سے معروف آزادی پسند رہنمائوں میر واعظ مولوی محمد فاروق ، خواجہ عبدالغنی لون اور شہدائے حول کی برسی کے موقع پر طاقت کا وحشیانہ استعمال کر کے پر امن عوامی سرگرمیوں پر قدغن عائدکرنے کی مذموم پالیسی پر گامزن ہے جو عالمی برادری اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور انصاف و جمہوریت پر یقین رکھنے والے ممالک کیلئے چشم کشا اور لمحہ فکریہ ہے۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ کشمیری عوام نے اس دن پوری وادی کشمیرمیںمکمل ہڑتال کر کے شہداء کے مشن اورجاری جدوجہد آزادی سے اپنی وابستگی کا ثبوت دیدیا ہے کہ وہ اپنے حق خودارادیت کے حصول کی جدوجہد کو اسکے منطقی انجام تک جاری رکھیں گے ۔ حریت قائدین نے کہا کہ کشمیری قوم اور قیادت اپنے شہیدوں کی قربانیوں کو کسی بھی صورت میں فراموش نہیں کرے گی ۔ انہوں نے کہاکہ مشکلات، رکاوٹوں اور سرکاری جبر و قہر کے باوجود شہداء کے بلند نصب العین اور مقدس مشن کی آبیاری اور تحریک آزادی کو اس کے منطقی انجام تک لے جانے کیلئے حریت قیادت اور کشمیری عوام وعدہ بند ہیں ۔

انہوںنے حریت رہنمائوں اور کارکنوںکے گھروں میں بھارتی پولیس کے چھاپوں اور گرفتاریوں کے علاوہ عوامی مجلس عمل کے مرکزی دفتر میرواعظ منزل کامحاصرہ اور مزار شہداء عیدگاہ کی طرف جانیوالے تمام راستوں کی ناکہ بندی کوکٹھ پتلی انتظامیہ کا اعتراف شکست قراردیا۔ دریں اثناء حریت رہنمائوں محمد اشرف صحرائی، آغا سید حسن الموسوی الصفوی، مختار احمد وازہ، محمد اشرف لایا، غلام محمد گلزار، انجینئر ہلال احمد وار، محمد یاسین عطائی،محمد یوسف نقاش، بلال احمد صدیقی، بشیر احمد بٹ ، محمد عادل ڈار، سید امتیاز حیدراوردیگر کو گرفتار کرکے گھروں اورپولیس اسٹیشنوں میں نظربند کردیا گیا جبکہ آزادی پسند رہنمائوں محمد شفیع خان ، محمد اسلم شیخ اور ایڈوکیٹ یاسر دلال کی قیادت میں کارکنوں کی ایک بڑی تعداد نے عالی مسجد عیدگاہ سے مزار شہداء تک ایک جلوس نکالنے کی کوشش کی جسے بھارتی فورسز طاقت کے زور پر ناکام بنادیا۔

اس دوران کشمیر کے طول و عرض میںمختلف اضلاع کی مساجد ، خانقاہوںاور امام بارگاہوں پر نماز ظہر کے موقعہ پر ائمہ مساجد اور نمازیوں نے مزار شہداء عیدگاہ سرینگر پرجلسہ خراج عقیدت کے انعقاد کو ناکام بنانے کی انتظامیہ کی کوششوں کی شدید مذمت کی اور شہداء کی بلندی درجات کیلئے دعاکی ۔