غیر ملکی قرضوں کا حجم تاریخ کی بلند ترین سطح پرپہنچ گیا

مارچ کے اختتام تک غیر ملکی قرضوں کا حجم 91 ارب 76 کروڑ ڈالر ہوگیا ہے، اسٹیٹ بینک

منگل مئی 16:56

غیر ملکی قرضوں کا حجم تاریخ کی بلند ترین سطح پرپہنچ گیا
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 مئی2018ء) غیر ملکی قرضوں کا حجم تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، مارچ کے اختتام تک غیر ملکی قرضوں کا حجم 91 ارب 76 کروڑ ڈالر ہوگیا ہے۔تفصیلات کے مطابق ملک پر قرضوں کے بوجھ میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا اور غیر ملکی قرضوں کا حجم تاریخ کی بلند ترین سطح پر جا پہنچا، رواں مالی سال کے پہلے 9ماہ میں 5 ارب ڈالر غیر ملکی قرضوں کی مد میں ادا کئے گئے ہیں جبکہ مجموعی طور ہر رواں مالی سال تک آٹھ ارب ڈالر تک کی ادائیگیاں کرنی ہیں۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی میں اصل قرضے، قلیل مدتی قرضے اور سود کی ادائیگی شامل ہے، جولائی تا مارچ 3ارب 52 کروڑ ڈالر کے قرضے ادا کئے گئے اور سود کی ادائیگی کی مد میں ایک ارب 44کروڑ ڈالر صرف کئے گئے، یہ رقم پیرس کلب اور دیگر مالیاتی اداروں کو ادا کی گئی ہے۔

(جاری ہے)

اسٹیٹ بینک کے مطابق جولائی تا ستمبر کے دوران 2 ارب ڈالر ، دوسری سہ ماہی میں ایک ارب 52کروڑ ڈالر جبکہ تیسری سہ ماہی میں ایک ارب 35کروڑ ڈالر کی ادائیگیاں کی گئی۔

اعداد وشمار کے مطابق رواں مالی سال کے بقیہ مہینوں میں مزید دو سے تین ارب ڈالر کی ادائیگیاں کرنی ہیں۔آ ئین کی مطابق قرضوں کا حجم جی ڈی پی کی 60 فیصد تک ہونا چاہیئے تاہم موجودہ حکومتکے پانچ سال مکمل ہونے پر قرضے جی ڈی پی کا 70 فیصد سے زائد ہو گئے ہیں۔معاشی ماہرین کے مطابق آئندہ مالی سال میں پاکستان کو 13ارب ڈالر مزید قرض کی ضرورت ہوگی۔یاد رہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کے قرضوں میں ہوشربا اضافے کی پیشگوئی کی تھی کہ سال2020 تک پاکستان پر قرضوں کا حجم 114 ارب ڈالر ہوجائے گا۔رپورٹ کے مطابق رواں برس 2018 میں قرضوں کا حجم 93 ارب 27 کروڑ ڈالر ہے، رواں برس پاکستان کو 7 ارب 73 کروڑ ڈالر کی ادائیگیاں کرنی ہیں۔ سال 2019 میں ادائیگیاں بڑھ کر 12 ارب 73 کروڑ ڈالر ہوجائیں گی۔

متعلقہ عنوان :