پاکستان اور کیوبا کے درمیان علم و ادب کے شعبہ میں اپنی نوعیت کی پہلی مفاہمت کی یادداشت دستخط کر دیئے گئے

تحت دونوں ممالک کی نیشنل لائبریریاں کتب اور تصانیف کا تبادلہ کریں گی ،ْ معاہدہ

منگل مئی 20:31

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 مئی2018ء) پاکستان اور کیوبا کے درمیان علم و ادب کے شعبہ میں اپنی نوعیت کی پہلی مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کر دیئے گئے ہیں جس کے تحت دونوں ممالک کی نیشنل لائبریریاں کتب اور تصانیف کا تبادلہ کریں گی۔ باہمی تعاون کے تحت دونوں ممالک ادبی وکتاب میلوں، کانفرنسوں اور ورکشاپس کا انعقاد کریں گے اور مشترکہ بنیادوں پر تحقیق ومطالعہ کو فروغ دیں گے۔

منگل کو کیوبا کی طرف سے سفیر گیبرئیل تی ایل کاپوٹے اور پاکستان کی جانب سے وفاقی سیکرٹری انجینئر عامر حسن نے ایم او یو پر دستخط کئے۔ مشیر وزیراعظم برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ عرفان صدیقی بھی اس موقع پر موجود تھے۔ عرفان صدیقی نے پاکستان اور کیوبا کے درمیان ادب کے شعبہ میں اپنی نوعیت کے اولین ایم او یو پر دستخطوں کو تاریخی موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ کیوبا دنیا میں اپنی ایک منفرد تاریخ اور بھرپور شناخت رکھتا ہے، پاکستان اور کیوبا کے علمی میدان میں تعاون سے دونوںممالک کے عوام، اہل قلم اور دانشور ایک دوسرے کے قریب آئیں گے۔

(جاری ہے)

دونوں ممالک کتاب میلوں کا انعقاد کریں گے، کتاب دوستی پاکستان اور کیوبا کی دوستی کی منفرد پہچان بن کر ابھرے گی۔ انہوں نے کہاکہ مختصر مدت میں نیشنل لائبریری پاکستان میں کتب اور دیگر مخطوطات کی ڈیجیٹلائزیشن کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ مطالعہ کیلئے بہترین ماحول کیلئے جامع اصلاحات کی جارہی ہیں اور سہولیات کی فراہمی کو بہتر بنایاجارہا ہے۔

کیوبا کے سفیر گیبرئیل تی ایل کاپوٹے نے کہا کہ بعض لوگوں کی یہ سوچ درست نہیں کہ کتابوں کی آج کی دنیا میں اہمیت نہیں رہی۔ دراصل کتابیں اور علم ہی انسانیت کیلئے سب سے عظیم تحفہ اور ورثہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہوزے مارتی کیوبا کے ایک نامور لکھاری تھے جن کے نام سے کیوبا کی نشینل لائیبریری منسوب ہے۔ سفیر کیوبا نے بتایا کہ ہرسال فروری میں کیوبا میں بین الاقوامی کتاب میلہ منعقد کیاجاتا ہے جس میں 40 سے زائد ممالک حصہ لیتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کو اس میلہ میں شرکت کی دعوت دی۔ قومی تاریخ وادبی ورثہ ڈویژن بیلاروس، ترکی اور تاجکستان کے ساتھ ایم او یوز کرچکا ہے جبکہ بلغاریہ، پرتگال اور ہنگری سے اسی نوعیت کی مفاہمت کی یادداشتوں کے حوالہ سے کام جاری ہے۔