امریکی عدالت نے انسانی اعضا فروخت کرنے والے تاجر کو نوسال قید کی سزا سنادی

آرتھر نے 1997 سے 2013 تک کم ازکم 120 مرتبہ متاثرہ اعضا فروخت کیے،ایف بی آئی آفیسرز

بدھ مئی 13:34

واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) امریکہ کی ایک عدالت نے انسانی اعضا فروخت کرنے والے ایک تاجر کو نوسال قید کی سزا سنادی ۔آرتھر رتھ برن پر الزام ہے کہ وہ میڈیکل پڑھانے والوں کو ایسے اعضا فروخت کرتے رہے ہیں جن میں بیماریوں کے جراثیم یا وائرس موجود تھے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق فیڈرل انوسٹی گیشن بیورو کے تفتیشی افسروں نے کہاکہ 64 سالہ آرتھر نے 1997 سے 2013 تک اپنے اس کاروبار کے ذریعے ایک کروڑ 30 لاکھ ڈالر کمائے۔

ایف بی آئی کے پراسیکیورٹرز کا کہنا تھا کہ وہ انسانی اعضا طبی علوم پڑھانے والوں کو فروخت کرتا تھا یا کرائے پر دیتا تھا۔ایف بی آئی کے پراسیکیورٹرز نے جنوری میں عدالت کو بتایا تھا کہ آرتھر نے ڈیٹرائٹ میں اپنا ایک گودام قائم کیا ہوا تھا، جہاں فریزروں میں انسانی اعضا تہہ در تہہ رکھے ہوئے تھے اور وہ ان کی دیکھ بھال نہیں کرتا تھا۔

(جاری ہے)

پراسیکیوٹرز کا کہنا تھا کہ اس کے گودام میں رکھے جائے والے انسانی اعضا ان افراد کے تھے جوان کی موت کے بعد رشتے داروں نے سائنسی تحقیق کے لیے عطیہ کر دیے تھے۔

ریاست الی نوائے کی ٹریسی سمولکا کے والد کا انتقال 2010 میں ہوا تھا، تین سال کے بعد ان کا سر ایف بی آئی نے آرتھر کے فریز سے برآمد کیا۔ ٹریسی نے پہلی بار آرتھر کو عدالت میں دیکھا اور غصے سے کہا کہ تم سیدھے دوزخ میں جاؤ گے ۔امریکی قوانین کے تحت انسانی اعضا کی فروخت جرم نہیں ہے۔ لیکن آرتھر پر یہ الزام ہے کہ اس نے ایسے اعضا فروخت کیے جس میں کئی ایک میں ایچ آئی وی اور ہپاٹائٹس کے اثرات موجود تھے اور ان پر تجربات کرنے والے بیمار پڑ سکتے تھے۔ایف بی آئی نے عدالت میں بتایا کہ آرتھر نے 1997 سے 2013 تک کم ازکم 120 مرتبہ متاثرہ اعضا فروخت کیے۔