جناح گارڈن میں بجلی کی تقسیم کے ناقص انتظام سے رہائشی عاجز ، بجلی کی آنکھ مچولی سے لاکھوں روپے کی الیکٹرانک اشیا جل گئیں،رہائشی سراپا احتجاج ، چیف جسٹس سے ازخو د نوٹس لینے کی اپیل کردی ،حکومت سے جناح گارڈ ن کی بجلی کی تقسیم کا نظام براہ راست آئیسکو کے حوالے کرنے کا مطالبہ

بدھ مئی 23:36

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) وفاقی دارالحکومت کے انتہائی اہم علاقے جناح گارڈن میں بجلی کی تقسیم کے ناقص انتظام سے رہائشی عاجز آگئے ، بجلی کے اچانک ٹرپ ہونے سے لوگوں کی لاکھوں روپے مالیت کی الیکٹرانک اشیا جل گئیں ، ماہ مقدس میں گھنٹوں ، گھنٹوں بجلی غائب رہنے لگی جس کے خلاف رہائشیوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان سے ازخود نوٹس لینے کی اپیل کردی اور حکومت سے بھی مطالبہ کیاکہ وہ جناح گارڈ ن کی بجلی کی تقسیم کا نظام براہ راست آئیسکو کے حوالے کرے ۔

منگل اور بدھ کی درمیانی شب بجلی کی تقسیم کے ناقص انتظام کے باعث جناح گارڈن اسلام آباد میں کئی مکینوں کے ریفریجریٹر ، پنکھے ، موٹریں اور لاکھوں روپے مالیت کادیگر قیمتی سامان جل گیا ۔

(جاری ہے)

رہائشیوں کے مطابق جناح گارڈن کے ایک حصے کو واپڈا بجلی فراہم کرتاہے جبکہ دوسرے حصے کو سوسائٹی خود بجلی فراہم کرتی ہے ، بجلی کی تاریں زمین پرکھلی پڑے ہونے ، ناکافی ٹرانسفارمرز اور غیر معیاری ڈی پی کے باعث بجلی کی تاریں اور ڈی پی میں آگ لگنے کے باعث علاقے میں بجلی کی سپلائی معطل ہوگئی جو کئی گھنٹوں تک بحال نہ ہوسکی جبکہ وولٹیج بھی تین سوتک پہنچ گئی ۔

سوسائٹی انتظامیہ کو کافی عرصے سے بتایا جارہاتھا کہ بجلی کے نظام کو بہتر بنایا جائے مگر ا نتظامیہ نے اس پر توجہ نہیں دی ۔رہائشیوں نے کمشنر اسلام آبا د اور رجسٹرا ر سے مطالبہ کیاہے کہ سوسائٹی میں بجلی کی تقسیم کے نظام کوبہتر کرکے مستقبل میں لوگوں کو اس نقصان اور کوفت سے بچایاجا ئے ۔ رہائشیوں کا کہناہے کہ ماہ مقدس میں جہاں حکومت لوڈشیڈنگ نہ ہونے کے دعوے کررہی تھی اس کے برعکس کئی گھنٹوں تک بجلی کانہ ہونا اور ٹرانسفارمرزکی خرابی ناقص انتظام کی عکاس ہے ۔ رہائشیوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے ازخود نوٹس لینے کی اپیل کی اورحکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ جناح گارڈن میں بجلی کی تقسیم کا نظام براہ راست آئیسکو کے حوالے کیاجائے ۔