شاہ محمود قرشی اور جہانگیر ترین کے درمیان ہونے والی لڑائی کی اصل وجہ سامنے آ گئی

شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کی عمران خان کی موجودگی میں لڑائی دراصل جنوبی پنجاب سے پارٹی میں شامل ہونے والے لوگوں کا کریڈٹ لینے پر ہوئی ہے ، معروف صحافی رؤف کلاسرا کا انکشاف

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعہ مئی 12:14

شاہ محمود قرشی اور جہانگیر ترین کے درمیان ہونے والی لڑائی کی اصل وجہ ..
لاہور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔25 مئی 2018ء) معروف صحافی نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی اور جہانگہر ترین کے درمیان ہونے والی تلخ کلامی کی وجوہات بتا دیں۔تفصیلات کے مطابق معروف صحافی رؤف کلاسرا کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کی پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان کی موجودگی میں لڑائی ہوئی۔

تو ان دونوں کی لڑائی کی اصل وجہ یہ تھی کہ شاہ محمود قریشی اس بات پر پرہشان تھے کہ جتنے لوگ بھی ساؤتھ پنجاب سے تحریک انصاف میں شامل ہو رہے تھے۔ان کا کریڈٹ کون لے گا۔تو شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کے درمیان اصل میں یہ کریڈٹ لینے پر لڑائی ہوئی ہے۔کہ جنوبی پنجاب کے تحریک انصاف میں شامل ہونے کا کریڈٹ کسے جاتا ہے۔

(جاری ہے)

رؤف کلاسرا کا کہنا تھا کہ جو بھی رہنما جنوبی پنجاب سے تحریک انصاف میں شامل ہونا چاہتا ہے وہ پہلے جہانگیر ترین کے پاس جاتا ہے۔

اور اس کے بعد وہ رہنما بنی گالا عمران خان سے ملاقات کے لیے جاتے ہیں۔تو شاہ محمود قریشی سے یہ بات برداشت نہیں ہو رہی۔کہ یہ تو سارا کریڈٹ جہانگیر ترین کو جا رہا ہے۔ اس بات پر دونوں رہنماؤں کے درمیان عمران خان کے سامنے لڑائی ہو گئی۔یاد رہے کہ پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے اجلاس میں پارٹی کے سینئیر رہنماؤں شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کے مابین تلخ کلامی کی خبر سامنے آئی تھی۔

اجلاس میں شاہ محمود قریشی نے الیکشن کمیشن کی جانب سے نااہل کیے گئے پارٹی رہنما رائے حسن نواز کی اجلاس میں موجودگی پر اعتراض کیا اور کہا کہ ایک نااہل قرار دیے گئے شخص کو پارٹی کے سی ای سی اجلاس میں بھیٹنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئیے۔ جس پر جہانگیر ترین نے مداخلت کی اور کہا کہ شاہ محمود قریشی کا اشارہ ان کی طرف تھا۔ اسی بات پر اجلاس میں دونوں رہنماؤں میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔

جس پر پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے مداخلت کی اور آئندہ رائے حسن نواز کو کوئی بھی پارٹی عہدہ نہ دینے کی ہدایت کی اور انہیں پارٹی کے پارلیمانی بورڈ سے ہٹانے کا اعلان بھی کیا۔ اس موقع پر جہانگیر ترین نے بھی پارٹی کو خیرباد کہنے کی پیش کش کی۔ اور کہا کہ اگر پارٹی ابھی فیصلہ کرے تو وہ گھر چلے جائیں گے ، جس کے بعد نہ تو آئندہ پارٹی کے کسی اجلاس میں شرکت کریں گے نہ ہی اس کی فیصلہ سازی میں کوئی مداخلت کریں گے۔